اب مقدمہ لڑنے پر وکیل لاتیں ماریں گے

کیا ملک میں مقدمہ لڑنا جرم ہے؟ قانون کے رکھوالے ہی اب قانونی کاروائی سے روک رہے ہیں۔ وہ جن کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کسی کو قانون توڑنے نہ دیں، وہ خاموشی سے کھڑے ہو کے ایک کونے میں تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

پچھلے دو دن سے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوءی جس میں ایک تشدد کو کچھ درندوں نے سرے عام تشدد کا نشانہ بنایا۔ تشدد کرنے والوں میں تین وکلاء بھی شامل ہیں جن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں یہ صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ وکلاء عورت کی کس طرح تذلیل کر رہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق وکلاء کے ہاتھوں تشدد بننے والی خاتون کا تعلق شاہپور بنگو گاؤں سے تھا، جو ایک زمین پر تناؤ کا مقدمہ لڑ رہی تھی۔

امرت شہزادی کیس کے سلسلے میں شکرگڑھ گئی تھی۔ جہاں موجود وکلاء اور کچھ لوگوں نے اس کو اور اس کے کزن کو جو کہ اس کے ساتھ موجود تھا، اس کو تشدد کا نشانہ بنایا۔متاثرہ خاتون کے کزن عبد القیوم نے پولیس کو بتایا کہ وہ وکیل محمد عاتف کے کمرے میں تھے جب محمد وسیم یاسر خان اور وکیل آصف سلطان دیگر پانچ لوگوں کے ساتھ ان کے کمرے میں آئے اور گالیاں دینے لگے۔

وکیل یاسر خان اور آصف سلطان نے مقدمہ لڑنے اور جاری رکھنے کی وجہ سے شہزادی کو کمرے سے باہر گھسیٹ کر لے گئے اور سب کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی اور اس کو میڈیا نے بھی چلایا۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ دو پولیس اہلکار خاموشی سے کھڑے تماشہ دیکھ رہے ہیں جب ایک عورت پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلٰی عثمان بزدار نے بھی واقعے کا نوٹس لے لیا اور پولیس کو ملزمان کے خلاف کیس درج کرنے کی ہدایت کی۔ پولیس نے تمام درندوں کو خلاف کیس درج کیا اور شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us