تصویر کے پیچھے چھپی کہانی

لیڈی پولیس کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے والے ملزم وکیل احمد مختار کو باعزت بری کردیا گیا۔

وزیراعلی پنجاب کے ترجمان شہباز گل نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر شیئر کی جس میں ملزم احمد مختار کی ہتھکڑی اسی  لیڈی پولیس کانسٹیبل نے پکڑی ہوئی ہے جسے اس وکیل نے تھپڑ مارا تھا۔

ایک وکیل کو سزا کیسے مل سکتی ہے جب اس کی سپورٹ کرنے کے لیے پوری وکیل برادری موجود ہو؟ رپوٹ کے مطابق لیڈی کانسٹیبل کو ہتھکڑی پکڑا کر تصویریں ضرور بنائیں گئیں اور اسکے بعد لیڈی کانسٹیبل کو پیچھے دھکیل دیاگیا۔ انکی بات نہیں سنی گئی۔ ملزم وکیل احمد مختار کو بری کردیا گیا۔ 

 واضح رہے کہ چند روز قبل وکیل کی جانب سے لیڈی کانسٹیبل کو تھپڑ مارنے کے اس واقعے پر سوشل میڈیا پر کافی بحث چھڑگئی تھی اور خاتون کو انصاف دلوانے کا مطالبہ کیا جارہا تھا. جس کے بعد وکیل کو گرفتار کیا گیا۔

خاتون کانسٹیبل نے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ کیا اس ملک میں عورت کی یہی عزت ہے کہ اسے کوئی بھی شخص سر عام آکر تھپڑ مارے اور پھر بری بھی ہوجائے؟

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us