لاہورکی فضا میں سانس لینا دشوار!

جہاں دنیا کے تمام ممالک ترقی کی سیڑھیاں تیزی سے چڑھ رہے ہیں وہیں پاکستان بھی اس ڈور میں پیش خدمت ہے۔ لیکن چند عناصر کی وجہ سے اس ترقی کی ریس میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جیسے آج کل پاکستان کے دوسرے بڑے شہر کا پہلا بڑا مسئلہ فضائی آلودگی ہے۔ دھند اور دھوئیں کے امتزاج سے پیدا ہونے  والی یہ اسموگ شہر لاہور کے باسیوں کے لیئے  بنی وبال جان۔ اسموگ پیدا ہونے کے اصل عناصر فضا میں نائیٹروجن اور کاربن دائی آکسائیڈ کا بے حساب اخراج ہے۔

بر طانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اسموگ سے متاثرہ شہر لاہور جس کی موجودہ آبادی تقریباً ایک کروڑ ہے، ان کی صحت کو اسموگ اور گرد آلود زہریلی دھند سے خطرہ لاحق ہے۔  اسموگ کی وجہ سے آج جمعے کو شہر بھر کے تمام اسکول اور کالج بند ہیں، ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے بلکہ اس سے قبل بھی اسی وجہ سے اسکولوں اور کالجوں میں کئی مرتبہ چھٹی دی جاچکی ہے۔

جنوبی ایشیا کے لیے ایمنٹسی انٹرنیشنل کی نمائندہ کا کہنا ہے کہ یہ نقصان دہ فضا شہر میں موجود ہر کسی کی صحت کے لیے خطرہ ہے اور حکومت کی جانب سے لاہور کے اسموگ سے نمٹنے کے لیے ناکافی اقدامات کی وجہ سے وہاں حقوقِ انسانی کی صورتحال کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ یہ معاملہ اس قدر سنجیدہ ہے کہ ہم دنیا بھر میں اپنے اراکین سے استدعا کر رہے ہیں کہ وہ پاکستانی حکام سے کہیں کہ وہ اس بحران کی نوعیت کو سنگین مانیں اور لوگوں کی صحت اور جانیں بچانے کے لیے فوری اقدام کریں۔

لاہور کے بعد پنجاب کے دیگر شہر بھی شدید اسموگ کی  لپیٹ میں۔ گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں بھی آج اسکول بند رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ دوسری جانب محکمہ ماحولیات نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ شہری منہ اور ناک ڈھانپ کر رکھیں، پانی زیادہ سے زیادہ پیئیں اور بلاوجہ گھر سے باہر نہ نکلیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us