یہ جو وکلاء گردی ہے اس کے پیچھے۔۔۔؟

وکلاء، ڈاکٹر، سیاستدان۔

تاجر برادری یو کوئی اور۔۔۔ لگتا یوں ہے کہ پاکستان میں احتجاج کرنے کے لیے مسائل دس ہزار ہیں لیکن نہ تو سول طریقے سے کسی کو احتجاج کرنا آتا ہے اور نہ ہی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں عوام جا کر حکومت یا قانون نافذ کرنے والوں کو اپنی شکایات سے آگاہ کر سکے۔

کل لاہور کے PIC میں وکلاء برادری اور ڈاکٹروں کے درمیان جو ہوا، وہ اتنا ہی قابل مذمت ہے جتنا فیض آباد دھرنا، ماڈل ٹاوٗن واقعہ، یا پھر ۲۰۱۳ کا ڈی طوک والا دھرنا۔ کیونکہ انسانی جانوں اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ تو یہاں کوئی نہیں کرتا۔ کسی کی ساری زندگی کی جمع پونجی آگ کے ایک شعلے کی لپیٹ میں آئے یا پھر کوئی اپنے پیاروں کو کسی ناگوار حادثے میں کھو دے۔۔۔ گزرا وقت واپس کب آیا ہے؟

وکلاء برادری کا کل کیا جانے والا احتجاج ملک کے سماج کی کئی پہلووٗں میں عکاسی کرتا ہے۔ اپنے کالے کوٹ کی بے حرمتی اور آئین کی پاسداری کا حلف تو ایک جگہ، لیکن اپنے مفاد کے لیے، آئین اور قانون کی پاسداری کا حلف تو ایک جگہ، لیکن اپنے مفاد کے لیے آئین اور قانون کی دھجیاں اُڑاتے ان وکلاء نے یہ بات ثابت کردی کے ملک میں اس وقت ایک ہی قانون نافذ ہے اور وہ ہے غنڈہ گردی کا۔ اس کے علاوہ نہ کوئی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی کردار ہے اور نہ ہی ان کے پاسداروں کا۔

کیا معزب معاشرے اپنے مسائل اس طرح حل کرتے ہیں؟ کیا واقع اس واقعے کے پیچھے ہونے والی بات اتنی بڑی تھی کہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا؟ یا پھر یہ وکلاء الیکشن کے پیطھے ہونے والی کوئی سازش تھی؟

کیا چیف جسٹس پاکستان اس واقعے کا کوئی نوٹس لیں گے یا پھر یہ معاملہ بھی ملکی تاریخ میں وکلاء گردی کے سابقہ واقعات کی فہرست میں شامل ہوجائے گا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us