خواجہ آصف کی عمران خان سے ہمدردی کیسی؟

یوں تو پاکستانی ایوان میں آج کل آپوزیشن کے بیانات اور الزامات سے ماحول گرم چل رہا ہے لیکن قومی اسمبلی میں آج خواجہ آصف کے بیان نے موسم اور حالات کا رخ ہی پھیر دیا۔

خواجہ آصف کے بیان میں ایسی سچائی, حقیقت اور عمران خان سے ہمدردی ہے، کہ اگر خان صاحب خود اسے سنیں تو حیران رہ جائیں۔

آج قومی اسمبلی کے بھرے ایوان میں اپنے روایتی جوش اور ولولے کے انداز میں اسپیکر اسد قیصر کے ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب کو پتا ہی نہیں ہے کہ ان کے ساتھ آگے چل کر کیا ہونے والا ہے۔ انہیں تب سمجھ آئے گی جب چھت ان کے سر پر گرے گا۔

انہوں نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ جب آپ دھرنہ کریں اور الیکشن کا مطالبہ کریں تو وہ جائز ہے، لیکن جب ہم کریں تو وہ آپ مانتے نہیں ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت آنے کے بعد اس ایوان کا بیڑہ غرق ہو گیا ہے۔ ۱۲  بل اور قراردادیں ایسے پاس ہوئی ہیں اس ایوان سے کہ ہم سب شرمندہ ہیں۔ آگے چل کر اس کے کیا اثرات ہونگے، یہ ان کو پتا ہی نہیں ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ جو جس قوت حکومت میں ہوتا ہے، اُسے ہی سب سے کم پتا ہوتا ہے کہ کیا ہورہا ہے۔

عمران خان جس طرح دھرنے کی صورتحال کو سمبھال رہے ہیں، اس بارے میں خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کے ساتھی ان کے دوست نہیں ان کے دشمن ہیں، وہ خود ان کو گالیاں پڑوا رہے ہیں۔  خان صاحب کی مزاکراتی ٹیم محض ایک مزاق ہی ہے۔ پرویز جس طرح کنٹینر پر کھڑے ہوکر ڈانس کرتے تھے، اگر رویے ایسے ہی رہے تو جلد ہی سسٹم لپیٹ دیا جائے گا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھرنے کی مزاکراتی ٹیم میں پرویز الہٰی اور پرویز خٹک، دونوں ہی عمران خان کو بیوقف بنا رہے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us