مفاد کے رشتے، مفاد کی ہمدردیاں!

۲۳ روز گزر گئے اور کوئی خبر سامنے نہیں آئی!

مسلئہ کشمیر دن بدن بگڑ رہا ہے اور افسوس کہ پاکستان اس بارے میں سفارتی عمل کے علاوہ کوئی اور قدم، خطے کے امن کے لیے، نہیں اُٹھا سکتا۔ اور وہ واحد قدم جو وہ اُٹھا رہا ہے وہ بھی اس صورتحال میں لڑکھڑاتا نظر آہ رہا ہے۔

۲۳ روز قبل کشمیر پر لگے کرفیو اور بھارت کی جانب سے اُس کی آزادانہ حیثیت کو ختم کر کے آرٹیکل 370 کو ختم کر کے اپنے آپ میں ضم کرنا، ایک ایسی عالمی سازش ہے جس کے عالمی سطح پر اور آگے آنے والے سالوں میں خطے میں بالخصوص کشمیر پر، بہت منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

آرٹیکل 370 ختم ہونے کے بعد، اب بھارتی افراد، مقبوضہ وادی میں نہ صرف جائیداد کی خرید و فروخت کر سکیں گے، بلکہ وہاں کی شہریت بھی بآسانی حاصل کرسکیں گے۔ وہاں پر شادیاں کرنے اور گھر بساے کا حق اور اختیار بھی انہیں حاصل ہوگا۔

بھارت کا اس قدم سے کشمیر میں اُسی طرح داخل ہونا ہے، جس طرح آج سے سو سال پہلے انگریز بر صغیر میں آئے اور یہاں قبضہ کیا تھا۔ اس قدم سے کشمیر میں، وہیں کے لوگوں سے اُن کے گھر اور جائیداد لے کر اُن ہی کے خلاف استعمال کر کے اُنہیں اکثریت سے اقلیت میں بدلنا ہے۔ اور اگر ایسا ہوا تو مقبوضہ وادی کے لوگ اپنی انفرادی حیثیت کھودیں گے، بلکہ یہی نہیں، اُن کا خود اپنے علاقے، اپنی جائیداد، اپنے شہر اور اپنے کشمیر پر سے اختیار ختم ہوجانے کا خطرہ ہے!

ہمارے سایستدان، کالم نگار، تجزیہ کار۔۔۔ غرض تمام شعبہ زندگی کے افراد کشمیر میں بھارتی مظالم اور جارحیت کے معاملے پر ایک پیج پہ ہیں اور کوئی بھی اس معاملے پر دو رائے نہیں رکھتا۔ خواہ عملی سطح پر کام کچھ ہو یا نہ ہو!

لیکن ایک چیز، جو عقل اور سمجھ، دونوں سے بالکل کاثر ہے، جس پر تمام افراد لب سیے بیٹھے ہیں کہ یہ تمام مسائل، یہ ساری اجارہ داری تو ہمارے ملک میں بھی تو ہے۔۔۔ لیکن اس کی طرف کوئی کان کیوں نہیں دھرتا؟ کوئی اُن کے مسائل کیوں نہیں سنتا؟

مایوسی اور محرومی کے شکار، اُس صوبے کے افراد، اپنے آپ کو دن بدن پاکستان سے علیحدہ ہوتا محسوس کرتے ہیں۔ اُن کا ماننا ہے کہ ریاست پاکستان اُن کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کر رہی ہے۔

جہاں نہ پانی، بجلی، گیس، ہسپتال اور نہ اسکول ہیں، وہاں صنعتیں لگا کر اُن کی ترقی کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ کوئی یہ پوچھے، کہ اُن صنعتوں میں کام کون کرے گا؟ کیونکہ یہاں کے لوگ تو پڑھے لکھے یا اس طرح کے صنعتی کام کے عادی ہی نہیں ہیں۔۔۔

تو اس کا حل اس بات میں نکالا گیا، کہ وہاں کام کرنے کے لیے دیگر شہروں سے لوگوں کو بلایا جائے۔ انہیں وہاں کام دیا جائے اور شناختی کارڈ بھی، کہ وہ اپنے ہنر اور تجربے سے وہاں کی صنعتیں چلائیں۔ وہاں کا ڈومیسائل بھی دیا گیا۔ تاکہ وہ وہا ں کاروبار کے نئے مواقع تلاش کریں تو انہیں کوئی مسلئہ نہ ہو۔

تو کوئی اس بات کا جواب دے، کہ اس صورتحال اور مسلئہ کشمیر میں کیا فرق ہے؟ کیا دونوں جگہ ہی مقامی افراد کو اکثریت سے اقلیت میں تبدیل نہیں کیا جارہا؟ کیا وہاں کے زمینی اختیارات کسی اور کو نہیں دیے جارہے؟ کیوں ہے کہ مسلئہ کشمیر کی طرح، اس پر کوئی بات نہیں کرتا، کوئی اس پر سوچتا نہیں ہے؟

اس کو جواب صرف ایک۔

مفاد!

اپنا۔۔۔

اور اپنے ملک کا!

تحریر عروسہ جدون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us