پاکستان کا امن کی جانب ایک اور قدم

بابا گرونانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر آج کرتار پور راہداری کا افتتاح متوقع ہے۔ وزیراعزیراعظم عمران خان اس راہداری کا اگتتاح کریں گے۔ جس ککے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئیں ہیں۔ بھارت کی جانب سے سابق وزیراعظم من موہن سنگھ اور سیاسی رہنما نوجوت سنگھ سدھو کی شمولیت بھی متوقع ہے۔ افتتاحی تقریب کے دعوت نامے سفارتکاروں اور دیگر شخصیات کو بھجوائے گئے ہیں۔ معززین کے لیے 60 فٹ کمبا اور 24 فٹ چوڑا اسٹیج تیار کیا گیا ہے۔ جبکہ شرکا کے لیے پنڈال میں 6 ہزار کرسیاں ، ساؤنڈ سسٹم اور اسکرینیں لگائی گئی ہیں۔ اور اگر اچانک بارش ہوجائے تو اس صورت میں حفاظتی طور پر پنڈال کو واٹر پروف بھی بنایا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مختلف ممالک سے 5 ہزار یاتریوں کو ویزے جاری کیے گئے ہیں۔ مجموعی تعداد 10 ہزار تک جا سکتی ہے۔

مذکورہ منصوبہ 823 ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے۔ اور 330 ایکڑ رقبے پر یاتریوں کے قیام کے لیے کمپلیکس بنایا گیا ہے۔ جس میں 13۔5 ایکڑ پر ٹرمینل امیگریشن کی عمارت بنائی گئی ہے اسکے ساتھ ہی 6۔8 کلومیٹر پر سڑکیں، 2۔8 کلومیٹر پر سیلاب سے بچاؤ کے لیے بند جبکہ دریائے راوی پر 800 میٹر لمبا پل تعمیر کیا گیا ہے۔ گوردووارہ دربار صاحب بین القوامی سرحد زیروپوائنٹ سے ساڑھے 4 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کے ضلع ناروال کی تحصیل شکر گڑھ میں کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے۔ یہاں انکی ایک سمادھی اور قبر بھی موجود ہے۔ جو سکھوں کے لیے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔

بابا گرنانک راہداری کے حوالے سے پہلی بار 1998 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان مشاورت کی گئی تھی۔ اور

وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ برس 28 نومبر کو اس راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس افتتاحی تقریب میں وزیراعظم کی دعوت پر کانگریس رہنما اور سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے شرکت کی تھی جب کہ بھارتی حکومت کی طرف سے وزیر خوراک ہرسمرت کور اور وزیر تعمیرات ہردیپ سنگھ شریک ہوئے تھے۔ اب 21 بر س بعد آج 9 نومبر کو اس کے کھولے جانے کا امکان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us