کرتار پور سے جڑا، پاکستان کا خفیہ ایجنڈا!

مذہب، ایک ایسا عمل جو لوگوں کے دلوں کو صاف کرتا ہے۔ ان کو ان کے معبودوں کے قریب کرتا ہے۔ ذہنی اور روہانی تقویت بخشتا ہے۔

مذہب کا ویسے دینی قردار اپنی جگہ لیکن اس کا دنیاوی کردار تو صدیوں سے یہی نظر آہ رہا کہ یہ لوگوں کو آپس میں قریب کے بجائے دور کررہا ہے۔ ملکوں کو بانٹ رہا ہے اور دلوں میں نفرتیں اور بغض پیدا کرنے میں آلہ کار ثابت ہورہا ہے۔ آخر ایسا کیوں؟

پاک و ہند کی تقسیم کے بعد، نہ صرف لوگ ایک دوسرے سے دور سے دور تر ہوتے چلے گئے، بلکہ مذہب کو بھی تقسیم کا حصہ ہونا پڑا۔

کیا مسلمان، کیا سکھ، کیا ہندو، اور کیا ہی دیگر مذاہب!!! سب ہی بٹوارے کا شکار ہوگئے۔۔۔

بھلا وہ وقت تو گزر ہی گیا۔ جو ہونا تھا وہ ہو ہی گیا۔ تقسیم اور علیحدگی تو اپنی جگہ، لیکن اب مذہنی عقیدے تو نہیں چھوڑے جا سکتے نہ؟ لیکن بھارت کی کرنی کطھ ایسی ہوہی ہے، کہ وہاں کی مودی سرکار پاکستان کی نفرت میں اسے بھی نہیں چھوڑنا چاہتی!

کئی سالوں سے بند، پاکستان کی جانب سے سکھ مذہب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے ایک خوشخبری آئی تھی، کہ یہاں کی انتظامیہ اور حکومت کی جانب سے ننکانہ صاحب میں باباگرو نانک کے دربار کی مرمت اور وہاں آنے والے یاتریوں کے لیے تمام ضروری سہولتیں فراہم کی تھی۔ بابا گرو نانک کا جنم دن، منانے کے لیے، یہاں ہر سال لاکھوں کی تعداد میں اب سکھ افراد آتے ہیں۔ اس سال ۱۰ نومبر کو یہ مقام، تمام آنے والے افراد کے لیے کھول دیا جائے گا جس حوالے سے پاکستان کی جانب سے ایک وڈیو گانا بھی ریلیز کیا جا چکا ہے۔

اس سب میں بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ عوام پاکستان کے جھانسے میں نہ آئے، "وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ امن کے نام پر پاکستان کیا کھیل کھیل رہاہے”۔

یہ سب کہنا تھا انڈین پنجاب کے وزیر اعلٰی امریندر سنگھ کا۔ انہوں نے اپنی جانب سے لوگوں کو خبردار کرنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب بھارت کی جانب سے پاکستان کا پیش کیا گیا گانا اور اس کی وڈیو پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ اس وڈیو میں ان افراد کی تصاویر اور ذکر شامل ہیں جو ۱۹۸۴ میں بھارتی فوج کے ہاتھوں خالصتان موومنٹ چلانے کے لیے مارے گئے تھے۔

باباگرونانک کے مزار کے افتتاح پر سابق بھارتی کرکٹر اور عمران خان کے دوست،نوجوت سنگھ سدھو نے بھی آنے کا اعلان کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us