جھوٹی انا کی تسکین

پبلک ٹرانسپورٹ میں کھلے عام خواتین کو ہراساں کرنے کا عمل جاری ہے۔ ” شیراز ” بس جس کا نمبر PE2572 ہے آج بہت افسوسناک واقعہ ہوا۔ کنڈکٹر کسی بھی آدمی کو منع کرنے سے گریزاں تھا کہ وہ خواتین کے گیٹ سے نہ چڑھیں اور نہ ہی اتریں۔ ایک انکل اترنے کے لیے آگے آئے اور پھر خواتین کی سیٹ کے پاس آکر آگے بیٹھی لڑکی کے اوپر جھک گئے اس وقت انکی پیٹھ کا سائیڈ لڑکی کے چہرے کے اوپر تھا بس انکے گود میں بیٹھنے کی دیر تھی۔ وہ لڑکی فورا بولی بھائی کیا مسئلہ ہے؟ چند لوگوں نے کچھ دیر کے لیے دیکھا اس کے بعد سب نے اس لڑکی کے لیے کچھ نہیں بولا۔ لڑکی کی آنکھوں میں آنسو بھرے تھے اس نے ہمت کی اور کنڈیکٹر سے کہا بھائی بات سنیں آپ انہیں منع کریں خواتین کے کمپارٹمنٹ میں نہ کھڑے ہوں۔ ابھی یہاں سے آدمی بلکل میرے منہ پر آگیا تھا۔ کنڈیکٹر بجائے بات سننے کے یہ کہنے لگا کہ جگہ نہیں ہے تو یہیں سے چڑھائیں گے۔ پھر میں نے کہا بھائی کم از کم آپ انہیں منع کریں کہ پیچھے جگہ ہے تو پیچھے ہوتے جاؤ اور یہاں جالی لگائیں تاکہ انکے آنے جانے کا راستہ بند ہو۔ پھر میرے ساتھ ایک اور خاتون بھی بول پڑیں کہ آپ خود خیال کیا کریں بہن بیٹیاں سب کی سانجھی ہیں۔ اور جب ایک جگہ مختص ہی عورتوں کے لیے ہے تو پھر آدمی کیوں چڑھا رہے ہیں۔ کنڈکٹر بحث کرنے لگا۔ جس کے بعد ڈرائیور نے بات رفع دفع کردی۔ یہ کہہ کر اب یہاں سے نہیں چڑھانا آدمیوں کو۔

آپ ویڈیو میں دیکھ سکیں گے کس طرح بسز میں سی این جی سلینڈرز رکھے ہوئے ہیں جو بس کے ساتھ ساتھ جھولتے رہتے ہیں۔ ان سلینڈرز سے بس میں سفر کرنے والے تمام مسافروں کو جان کا خطرہ ہے آئے دن واقعات سننے میں آتے ہیں کہ رکشہ کا سلینڈر پھٹ گیا اور آگ بھڑک اٹھی۔ اللہ نہ کرے اگر اس طرح بسز میں یہ حادثات ہوئے تو بہت سی قیمتی جانوں کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us