کراچی کو سب سے بڑا بھکاری بنائیں گے

کراچی جسے پاکستان کا معاشی حب بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ زیادتی اسی طرح سے کی جاتی ہے۔ جس طرح سے آج کل پاکستان میں معصوم بچوں کے ساتھ کی جاتی ہے۔ کہنے کو یہ سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے۔ لیکن اپنے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کے بعد در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے۔ اسے ہر بار ایک نئی تاریخ مل جاتی ہے۔ ہاتھ میں ایک لولی پاپ پکڑا دی جاتی ہے ۔

عمران خان تبدیلی کا نعرہ لے کر آئے اور کراچی سے ایلیکشن لڑا۔ کراچی والوں کو امید ہوئی اور انہیں کراچی میں سب سے زیادہ سیٹیں ملیں۔ عمران خان نے لاہور میں دن رات ایک کیے لیکن لاہور کی اکثریت نے پھر بھی نواز شریف کوہی ووٹ دیا۔ مگر کراچی والے بے وقوف بن گئے۔ اور انھوں نے عمران خان کی جماعت کو سر پر بیٹھا دیا۔

عمران خان نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا کہ وہ کراچی والوں کا خیال رکھیں گے۔ لیکن ایک سال سے زیادہ ہو گیا کراچی کو کچھ نہیں ملا۔ بڑی بڑی باتیں کی گئی کہ اربوں روپے دیے جائیں گے مگر ملا ٹھینگا۔ اور اب یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے رواں مالی سال کے دوران کراچی کیلئے پی ایس ڈی پی کے تحت 44 جاری اور نئے منصوبوں کے لیے صرف 16 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ باتیں بڑی بڑی کی گئیں اور دیا گیا صرف ٹھینگا۔

اس پیکج  میں شہر کے لیے وزیراعظم کا اقتصادی پیکیج بھی شامل ہے۔ مجموعی طور پر شہر کی ترقّی کو نظرانداز کر دیا گیا ہے۔ اور کراچی والوں سے کہا گیا ہے کہ ہمیں ووٹ دینے کی پوری سزا آپ لوگوں کو ملے گی۔  عمران خان کی حکومت میں  سیاسی و انتظامی کوتاہیاں، استعداد اور صلاحیتوں کا فقدان شامل ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم کے کراچی پیکج میں 35 ارب 20 کروڑ 60 لاکھ روپے تخمینی لاگت کے 5 منصوبے شامل ہیں۔ جاری منصوبوں پر لاگت پوری کرنے کیلئے 9 ارب 36 کروڑ 90 لاکھ روپے درکار ہیں جبکہ حکومت نے 5 ارب 93 کروڑ 10 لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوگا۔  وزیراعظم کے کراچی پیکج ہی کے تحت 11 ارب 89 کروڑ 80 لاکھ روپے کی تخمینی لاگت سے چار نئے منصوبے بھی ہیں۔ مجموعی طور پر 44 میں سے 29 جاری اور 15 نئے منصوبے ہیں جن کی تخمینی لاگت 106 ارب روپے ہے، 29 جاری منصوبوں پر اخراجات 56 ارب روپے ہوئے اور مزید 50 ارب روپے کی ضرورت ہے جس کے مقابلے میں مرکز نے 16 ارب روپے جاری کئے ہیں جس میں 11 ارب روپے جاری اسکیموں اور باقی 5 ارب روپے نئی اسکیموں کے لیے ہیں۔

کراچی والوں تبدیلی کے نعروں کے ساتھ جیو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us