ججز کی تعیناتی میں تاخیر حکومتی نااہلی

سندھ ہائی کورٹ کی سفارشات کے با وجود وفاقی حکومت ججز کی تعیناتی میں تاخیر کر رہی ہے۔ ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر گیا مگر اس معاملے میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی۔

کراچی کی 2 احتساب عدالتوں میں ججوں کی عدم تعیناتی کے باعث میگاکرپشن کے 85 سے زائد مقدمات کی سماعت متاثر ہوگئی ہے۔ لنک ججز مقدمات کا فیصلہ دینے سے قاصر ہیں. جس کے باعث  احتساب کا عمل رکا ہوا ہے۔

اس وقت عدالتوں میں شرجیل انعام میمن ، آغا سراج درانی ، مصطفی کمال ، نیشنل بینک اسکینڈل ، جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل اور زمینوں کی غیر قانونی الاٹمنٹ سمیت دیگر نوعیت کے کرپشن کے مقدمات زیر سماعت ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں قائم 5 احتساب عدالتوں میں سے 2 احتساب عدالتیں ججز کی عدم تعیناتی کے باعث غیر فعال ہیں۔ زیر سماعت مقدمات کی سماعت متاثر ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے ڈیڑھ ماہ قبل عدالتوں میں ججز کی تعیناتی کے لیے وفاقی حکومت کو سفارشات ارسال کیں تھیں لیکن ہائی کورٹ کی سفارشات کے باوجود وفاقی حکومت ججز کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری نہ کرسکی۔ احتساب عدالت نمبر 1 اور احتساب عدالت نمبر 3 میں نیب حکام نے میگا کرپشن اسکینڈل کے 85 سے زائد مقدمات داخل کیے ہوئے ہیں جن میں شرجیل میمن، انعام میمن ، آغا سراج درانی، مصطفی کمال اور نیشنل بینک کے سابق صدر علی رضا جعلی ہاؤسنگ سوسائٹی اور سرکاری زمینوں کی غیر قانونی طریقے سے الاٹمنٹ اور دیگر مقدمات شامل ہیں۔ مذکورہ عدالتوں میں ججز تعینات ہونے کی وجہ سے لنک ججز مقدمات کی سماعت کرتے ہیں۔ لیکن کوئی فیصلہ جاری نہیں کرسکتے ہیں۔ لہذا اس لیے سماعت کے موقع پر نامزد ملزمان پیش ہوتے ہیں جن میں کچھ ملزمان جیلوں سے لائے جاتے ہیں جبکہ کچھ ضمانت پر رہا ملزمان اپنے اہلخانہ کے ساتھ آتے ہیں اور طویل انتظار کی کوفت سے گزرتے ہیں۔ اس طرح ملزمان کا ہر پیشی پر جیل سے یا اپنے گھروں سے عدالت آکر بغیر کسی پیشی کے واپس جانا وقت اور سرکاری املاک کا نقصان ہے آخر یہ لاپرواہی حکومت کی جانب سے کب تک جاری رہے گی؟

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us