اب جہاد نہیں ہوگا؟

کشمیر جہاں پھولوں کی خوشبو مہکتی تھی وہاں پر بھارتی بوٹوں نے سارے پھولوں کو روند دیا۔ کہں گولیوں کی بوچھاڑ سے ننھی کلیوں کے چہرے مسخ کردیے تو کسی زمین کو آگ لگا کر ساری زندگی کے لیے بنجر کردیا۔ ایسے میں دو بحثیں ہورہی ہیں۔ کیا پاکستان کو انڈیا سے جنگ کرلینی چاہیئے یا پھر سفارتی طریقہ کار اختیار کیا جائے؟ کیا واقعی میں دونوں ملک ایک دوسرے سے جنگ کرنا چاہتے ہیں؟ اس کا واضح جواب ہے کہ نہیں۔ پاکستان کی اقوام متحدہ میں مندوب ملیحہ لودھی نے ہر طرح کے عسکری آپشن کا منع کردیا۔ لیکن بھارت اور پاکستان روایتی جنگوں کے علاوہ ایک دوسرے کے خلاف پراکسی کا الزام بھی لگاتے رہے ہیں۔

پاکستان کا شروع ہی سے موقف رہا ہے کہ بلوچستان اور طالبان کے پیچھے  بھارتی خفیہ ایجنسی ” را” کا ہاتھ ہے۔ جبکہ دوسری طرف بھارت دنیا کو یہ بتاتا رہا ہے کہ کشمیر میں جاری مزاحمت کے پیچھے پاکستان میں موجود مذہبی جماعتیں شامل ہیں۔ امریکہ یا پھر کسی اور کا نام لے لیجئے لیکن خیال یہ ہی ہے کہ انہیں کے دباؤ میں آکر پاکستان نے حافظ سعید یا مسعود اظہر جیسے لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔

کیا پاکستان پھر جہادیوں کے حوالے سے بھارتی دباؤ کامیاب ہوگیا ہے؟ پاکستان میں کشمیر کے حوالے سے جہاد کا ایک مضبوط تصور موجود ہے لیکن لگتا یوں ہے کہ شاید اب انہیں اس طرح کی اجازت نہیں ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us