امریکہ کا کھیل، بے وقوف پاکستان

آزادی کے بعد 1950 میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے دورے سے شروع ہونے والے پاک امریکہ تعلقات آج تک ہمارے لیے کسی امتحان سے کم نہیں۔ 1971 کی پاک بھارت جنگ میں امریکی امداد کا بند کیا جانا ہو یا 1979 اور 1990 میں فوجی امداد کی معطلی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے حساب جانی و مالی نقصان اٹھا کر بھی ہر بار پاکستان کو امریکہ کی جانب سے ایک نئے دھوکے کا سامنا ہی کرنا پڑا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعہ پر کشیدگی ہو یا ایل او سی پر بھارتی درانگیزی امریکہ نے ہمیشہ بھارت کا ساتھ دیا۔ بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کو ختم کیا گیا۔ کشمیر میں ظلم و ستم حکومتی سرپرستی میں جاری ہے لیکن امریکی صاحب بہادر کے آگے پاکستان خاموش ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش تو کئی بار کر چکے ہیں مگر کیا پاکستان کو ان پر اعتماد کرنا چاہیے؟

ایک طرف امریکہ بھارت کو جدید اسلحہ فراہم کر رہا ہے اور دوسری جانب پاکستان کو ثالثی کی پیشکش۔ تفصیلات کے مطابق مودی حکومت جدید جنگی ہیلی کاپٹرز کی پہلی کھیپ 3 ستمبر کو اپنے فضائی بیڑے میں شامل کرے گا جو کہ امریکہ سے در آمد کیے گئے ہیں۔ اسکے علاوہ بھارت نے 22 اپاچی، اے ایچ-64 ای کی خریداری کے لیے امریکا سے 2015ء میں 1.1 ارب امریکی ڈالر کا معاہدہ کیا تھا۔ جس کے تحت 8 ہیلی کاپٹر موصول ہوگئے ہیں جبکہ بقیہ 14 ہیلی کاپٹرز 2020ء تک بھارتی فضائیہ کو فراہم کرے گا۔

 

کیا پاکستان کو امریکی ثالثی کا کردار ادا کرنے جیسی باتوں پر اعتماد کرلینا چاہیے؟ کیا پاکستانی حکومت یہ حقیقت بھول رہی ہے کہ امریکہ کا جھکاؤ ہمیشہ بھارت کی جانب رہا ہے؟  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us