وہ ایک مانوس اجنبی تھا۔۔۔

زندگی کا وہ موڑ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا جس نے میری زندگی ہی بدل دی، یونیورسٹی کا پہلا سال اور پہلا دن یاد گار ہونا ایک نیچرل بات ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس دن سب کے ساتھ حسین اتفاقات ہی ہوں۔

ریگنگ ، اوریئینٹیشن اور یونیورسٹی کا پہلا دن دو لازم و ملزوم چیزیں ہیں۔ ماسٹرز کے لیے آئے اسٹوڈنٹس میں تو پھر تھوڑی عقل ہوتی ہے وہ کچھ میچیور ہوتے ہیں لیکن جو ہمارے جیسے ڈائریکٹ کالج سے انٹر کرکے سیدھے یونیورسٹی کے دامن میں گرتے ہیں ان کو تو دور سے دیکھ کر ہی پتا چل جاتا ہے کہ یہ جونیئرز ہیں اور انکا آج پہلا دن ہے، کچھ یہی حال ہمارا بھی تھا۔

جنوری کا پہلا ہفتہ، پیر کا دن، صبح  نو بجے اوریئینٹیشن تھا اور ہم آٹھ بجے یونیورسٹی پہنچے کہ ڈیپارٹمنٹ دیکھا نہیں ہے اس لیے کچھ وقت ڈیپارٹمنٹ ڈھونڈنے میں بھی لگے گا لہذا اضافی وقت ہو تاکہ پہلے ہی دن کلاس میں دیر سے نہ پہنچیں اور کچھ  یونیورسٹی کو دیکھنے کی بھی بے صبری تھی، ہم بوکھلائے ہوئے ادھر سے ادھر پھرے مگر ڈیپارٹمنٹ کا نام و نشان ہی نہیں،  سوچا کسی سے مدد مانگ لیں لیکن مدد مانگیں بھی کیسے شکل پر صاف صاف لکھا ہے کہ اس دنیا میں آج انکا پہلا قدم ہے۔

سینا تانے، تیوریوں میں بل ڈال کر ہم سینیئرز کی فوج کی سرحدوں میں داخل ہوگئے اور یہ سوچے بغیر کہ ہمارا چہرہ کچھ اور ہی کہہ رہا ہے سوال کر بیٹھے۔ سنیے کیا آپ مجھے ویمن اسٹیڈیز ڈیپارٹمنٹ کا راستہ بتاسکتے ہیں؟

یہ سوال کرتے ہوئے میں یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ خوبصورت نوجوان اتنی ہی خوبصورت آواز کابھی مالک ہوگا، اس نے مجھے لطیف انداز میں راستہ بتایا اور میں بنا سوچے سمجھے کہ اس نے صحیح بتایا بھی ہے یا نہیں بس اس سمت چل پڑی۔ جب میں اس کے بتائے ہوئے مقام پر پہنچی تو وہاں ڈیپارٹمنٹ تو تھا مگر ویمن اسٹڈیز کا نہیں۔

پھر مجھے سمجھ آیا کہ میرے ساتھ ریگنگ ہوچکی ہے، لہذا میں نے بھی منہ بھر کے جتنا برا بھلا کہہ سکتی تھی کہا اور اسے کوستی ہوئی اپنے ڈیپارٹمنٹ کی تلاش میں ایک بار پھر نکل گئی۔

اگلے دن جب باقاعدہ کلاسز کا آغاز ہوا تو ہم سب اسٹوڈنٹس پروفیسر صاحب کا انتظار کررہے تھے کہ اچانک وہی شخص کلاس میں داخل ہوا جس نے کل مجھے غلط راستہ بتایا تھا، پہلا خیال میرے دل میں آیا یہ کیوں ہم فرسٹ ائیر والوں کی کلاس میں آگیا ہے، کتنا فارغ ہے ارے کہیں ایسا تو نہیں پچھلے کئی سالوں سے فیل ہورہا ہو اس لیے نکما ہماری کلاس میں آگیا، دل ہی دل میں مسکرا ہی رہی تھی کہ پروفیسر صاحب آگئے، وہ شخص مجھ سے کچھ فاصلے پر رکھی خالی چیئر پر آکر بیٹھ گیا۔ پروفیسر صاحب نے کچھ رسمی باتیں کرنے کے بعد  آٹینڈس لینا شروع کی، میرا نام آچکا تھا مگر میں اب بھی کسی نام کی کھوج میں تھی اتنے میں سر نے ایک نام پکارا، باسط  جس پر وہی شخص بول اٹھا، مجھے کچھ سکون ملا اور پھر میں وہی نام سننے اور وہ چہرہ دیکھنے کے لیے بے تاب رہتی، کچھ ماہ بعد ہماری پریزینٹیشنز کے لیے گروپس بنائے گئے جس میں خوش قسمتی سے میرا نام اس گروپ میں آیا جس میں باسط بھی شامل تھا، اس پہلے دن کے بعد آج دوسری مرتبہ میں نہیں بلکہ باسط نے مجھے مخاطب کیا،

ایمان سنیں۔۔۔ باسط کے منہ سے اپنا نام سن کر مجھے ایسا لگا کہ جیسے کسی نے میرے کانوں میں رس گھول دیا ہو، میرا دل خوشی سے جھومنے لگا اور میرا دل چاہا کہ بس وہ میرا نام اسی طرح لیتا رہے اور میں اسے سنتی رہوں۔ باسط نے مجھے میرے حسین خیالوں کی دنیا سے باہر لانے کے لیے ایک بار پھر پکارا، جی باسط میں سن رہی ہوں۔ فورا یہ جواب دے کر میں خاموش ہوگئی، کام کے سلسلے میں ہمارے فون نمبرز بھی ایکسچینج ہوئے، پھر ہماری ہلکی پھلکی بات چیت ہونے لگی۔ باسط ہمیشہ ہی پہلے دن کی طرح پر اعتماد انداز میں مجھ سے بات کرتا، بس اب پہلے اور اب کی گفتگو میں فرق اتنا تھا کہ ہم دونوں کے درمیان کسی حد تک واقفیت اور اپنائیت پیدا ہوچکی تھی، ہم بلا جھجھک بہت سے موضوعات پر بحث کرتے۔

باسط جیسا خوب رو نوجوان اگر بات کرنے کا سلیقہ رکھتا ہو تو سونے پر سہاگہ والی بات ہوجاتی ہے۔ اس لیے میں تو کیا میری جگہ کوئی بھی لڑکی اس پر فرفتہ ہوجاتی۔

دن ، مہینے اور سال اسی طرح گزرتے رہے ہماری دوستی پسندیدگی میں تبدیل ہوچکی تھی۔ لیکن کیا اس پسندیدگی کو کسی رشتے کا نام مل سکتا تھا؟ یہ سوال میں اکثر سوچتی مگر میری سوچیں ہمیشہ بغیر کسی واضح جواب کے ناکام لوٹ آتیں۔

ہر روز صبح کے پانچ گھنٹے میں باسط کے ساتھ گزارتی۔میرے کانوں کو اسکی آواز سننے کی عادت پڑ چکی تھی۔ مجھے اسکے وجود کا اپنے ارد گرد موجود ہونا اچھا لگنے لگا تھا اور جب ہم کلاسز ختم ہونے کے بعد گھروں کو روانہ ہونے کے لیے الگ ہوتے تو لگتا جیسے میری روح بے چین ہوگئی ہو، میری اس کیفیت کا علم باسط کو ہوا یا نہیں۔۔۔ شاید نہیں ہوا ہوگا۔۔۔۔ کیسے نہیں ہوا ہوگا اتنا وقت گزر چکا ہے ہمیں ساتھ ، اسے تو سب کچھ پتہ ہوگا، کیا میری آنکھوں میں کیا صاف لکھا نظر نہیں آتا کہ میں اسے پسند کرتی ہوں، لیکن اس نے مجھ سے کبھی یہ بات کہی نہیں اور وہ جیسے مجھ سے بات کرتا ہے ویسے ہی سب سے بات کرتا ہے آخر میں کیا سمجھوں؟ کیا وہ مجھ سے کبھی اس حوالے سے بات کرے گا؟ کیا میں اس کے لیے ان تمام دوسری لڑکیوں کی طرح ہی ہوں؟ یہ سوچیں مجھے اب اندر سے کھانے لگی تھیں لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ میں باسط سے بات کرونگی۔

یونیورسٹی کا آخری سال شروع ہوچکا تھا، میں سوچ کر بیٹھی تھی جیسے ہی موقع ملا باسط سے اس حوالے بات ضرور کرونگی۔ اچانک ہماری ایک کلاس کینسل ہوگئی اور ہمیں بات کرنے کا موقع مل گیا۔ میں نے باسط سے کہا مجھے تم سے بات کرنی ہے، باسط نے جواب میں کہا۔۔ کیا بات کرنی ہے بتاؤ۔۔۔ میں نے اسے کینٹین چلنے کے لیے کہا، جس کے بعد ہم دونوں کینٹین میں ایک خالی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئے۔ مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا میں کیسے بات شروع کروں، میں نے باسط سے پوچھا تمہارا آگے کیا ارادہ ہے یونیورسٹی کا آخری سال ہے، ایمان کچھ نہیں جاب ڈھونڈنی ہے ابھی تو ابا کے پیسے پر پل رہے ہیں، یہ اچانک تم کیوں میرے مستقبل میں دلچسپی لے رہی ہو؟ میں نے کہا باسط تمہارا شادی کے حوالے سے کوئی ارادہ نہیں، جی نہیں بلکل نہیں ، یہ فضول کام ہے، اور مجھے کیا ضرورت کسی سے بھی شادی کی؟ خامخواہ کسی کو اپنی زندگی میں شامل کرو اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کے کھوٹے سے بندھ کر رہو، میں تو آزاد پنچھی ہوں یہ گھر آباد کرنا میرے بس کی بات نہیں اور نہ مجھے اس میں کوئی دلچسپی ہے، میں فورا بول پڑی باسط میں تمہیں پسند کرتی ہوں اور آج سے نہیں اس پہلی ملاقات سے جب ہمارا پہلی بار آمنا سامنا ہوا تھا۔ میں ابھی کچھ اور کہتی کہ باسط نے بولنا شروع کیا ایک تو تم لڑکیوں کا بھی مسئلہ پتہ نہیں کیا ہے کس مٹی کی بنی ہوتی ہو، اگر کوئی عزت سے بات کرے تو اس سے محبت کرنے لگ جاتی ہو اور اگر کوئی عزت نہ کرے تو حقوق نسواں کے نعرے لگا کر اپنا تماشا بناتی ہو، دیکھو تم میری توجہ اور عزت دینے کو غلط سمجھ بیٹھی ہو، مجھے تم سے کوئی محبت اور لگاؤ نہیں تم جیسی کئی لڑکیاں میری کنٹیکٹ لسٹ میں ہیں اور میں ان سب سے بھی بلکل اسی طرح بات کرتا ہوں جس طرح تم سے کرتا ہوں، اب اس کا مطلب یہ تھوڑی نہ ہے کہ میں سب سے ہی شادی کروں گا، شادی تو مجھے اپنی امی کی پسند کی لڑکی سے ہی کرنی ہے باقی تو صرف دلفشوری کا سامان ہے، ہاں رہ گئی بات تمہارے اظہار محبت کی تو یہ بات یاد رکھنا کہ اظہار محبت صرف مرد کے منہ سے ہی اچھا لگتا ہے عورت کا اظہار مرد کی نظروں میں اس کے وقار اور رتبے کو ختم کردیتا ہے اور مرد کی نظر میں اس عورت کی عزت دو کوڑی کی نہیں رہتی ہے۔

باسط کے منہ سے وہ جملے میرے کانوں میں گرم سیسے کی مانند اترے لیکن ساتھ ہی مجھے زندگی کا ایک سبق بھی دے گئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us