پیشِ خدمت، اس ماہ کا یوٹرن!

عمران خان کے سارے دعوے، وعدے، نعرے اور دلاسے بیکار۔ 

حکومت کا ایک سال مکمل ہوتے ہی عمران خان اپنے تمام سیاسی وعدوں سے یو ٹرن لیتے نظر آرہے ہیں جن کی وہ الیکشن سے پہلے نفی کرتے رہے تھے۔ 

دوست ملکوں کے آگے کشکول اُنھوں نے اُٹھالیا۔ IMF سے بھیگ بھی مانگ لی۔ یہاں تک کہ پاکستان کو مزید قرضوں میں ڈبو کر مہنگائی کو دگنا کردیا۔

 اس حکومت کے ایک سال میں ہی انہوں نے ہر ماہ اپنے کسی نہ کسی قول سے یو ٹرن لیا ہے۔ اس ماہ کے ختم ہونے سے پہلے اُن کا نیا یو ٹرن سامنے آگیا ہے۔ 

وہ عمران خان جو کہتے تھے کہ میں اپنی مرکزی کابینہ کو محدود رکھوں گا، اُس کو دیکھتے ہی دیکھتے اتنا بڑا کر دیا ہے کہ شاید اب تو خان صاحب کو خود بھی نہ یاد رہے کہ کس شخص کو کون سی وزارت دی تھی۔ 

ایک حالیہ نوٹیفیکیشن کے مطابق، وزیر اعظم کی مرکزی کابینہ میں ۹ نئے لوگوں کو شامل کر دیا گیا ہے جو سیکریٹریز کا کام سنبھالیں گے۔ ان تمام کا تعلق پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخواء سے ہے۔ 

ان ۹ ارکان کی شمولیت کے بعد، اب وفاقی کابینہ کی کل تعداد سو کے قریب جا پہنچی ہے، جس میں اب چونتیس پارلیمانی سیکریٹریز، چوبیس وفاقی وزراء، چار وزیر مملکت، پانچ مشیر اور پندرہ اسپیشل اسسٹنٹنس شامل ہیں جو ملا کر کل تعداد ۸۲ کی بناتے ہیں٘۔ 

غرض یہ کہ عمران خان کی کابینہ میں کسی بھی پی ٹی آئی پارلیمنٹ کو ناراض نہیں کیا گیا اور پی ٹی آئی کے اسمبلی میں موجود ہر تین میں سے ایک رکن کو کسی نہ کسی عہدے سے نوازا گیا ہو۔ 

وزیر اعظم کی مرکزی کابینہ میں ۸۲ افراد کی شمولیت اس لیے بھی ایک انہونی بات ہے کیوں کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں کسی بھی وزیر اعظم کی کابینہ اتنی زیادہ بڑی نہیں تھی۔ یہاں تک سابق وزیر اعظم نواز شریف کا کابینہ صرف ۵۲ ارکان پہ مشتمل تھی۔ 

اس دور حکومت کی کئی منسٹریوں کو تو وفاقی وزیر، وزیر مملکت اور پارلیمانی سیکٹریز مل کر چلا رہے ہیں جبکہ بعض وزارتوں اور ڈویژن کی تو ضرورت بھی نہیں ہے، جن کو صرف اپنے من پسند لوگوں کو نوازنے کے لیے ہی بنایا گیا ہے!

ان تمام اضافی وزراء، مشیروں اور سیکریٹریز کا بوجھ ملک کی غریب عوام کو ہی اُٹھانا ہوگا جو پہلے ہی مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے چلے جارہے ہیں۔ 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us