یہ صرف جھنڈہ نہیں، توحید کی بنیاد ہے

سعودیہ عرب کے شہر الخبر میں sunsilk کی جانب سے 5 کلو میٹر کی دوڑ کا انعقاد کیا گیا۔ اس دوڑ کا مقصد لوگوں کو فٹنس کی طرف راغب کرنا تھا۔ اس دوڑ کو سعودی عوام کیلئے دلچسپ بنانے کیلئے رنگوں کی ہولی کھیلی گئی۔

سعودیہ عرب کو پوری دنیا ایک دقیانوس ریاست کے طور پر دیکھتی ہے۔ مگر یہاں کی حکومت نے اس پر غور کیا اور اپنے قوانین میں بہت سی نئی ترامیم کیں۔ جسکے تحت پہلے تو خواتین کی آزادی کو یقینی بنایا گیا۔ انہیں کاروبار کی اجازت دی گئی، انہیں ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی۔ اسکے علاوہ بین الاقوامی سطح پر دوسرے ممالک سے رابطے استوار کرنے کیلئے انکے کلچر کو اپنے ملک میں جگہ دی گئی۔ اور اسکا عملی مظاہرہ ہم نے میوزیکل کانسرٹ، مندر کا قیام, خواتین کی ریسلنگ اور اب ہولی کی شکل میں دیکھا۔

لوگوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذات کو صحیح اور سامنے والے انسان میں عیب تلاش کرتے ہیں۔ پھر چاہے بات ملکوں کے درمیان ہی کیوں نہ ہو ایک ملک دوسرے ملک کی جڑیں کاٹنے میں لگا رہتا ہے۔ اب ہم خود ہی دیکھ لیں اسلامی جمہوریہ کہلانے والی ہماری ریاست پاکستان میں بھی ہولی کلچر تیزی سے ابھر رہا ہے۔ تو ہمیں کوئی حق نہیں کہ کسی دوسری اسلامی ریاست پر انگلی اٹھائیں، دوسروں پر تنقید سے پہلے پہلے اپنے عمل پر غور کرنا چاہئیے۔ مہندی کے تہوار ہوں یا کوئی پکنک، ہولی کے رنگوں کے بغیر ہمارا تماشہ مکمل ہی نہیں ہوتا۔ سعودیہ عرب ملکی سطح پر جو بھی کرے اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں۔ مگر انکے جھنڈے پر جو کلمہ ہے اسکی حرمت کی پامالی سعودی حکومت ہر ایک سوالیہ نشان ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us