NICVD ہسپتال چوروں کا اڈہ

اب ہسپتال میں بھی پانی چور۔۔۔

صوبّہ سندھ کے سب سے بڑے ہسپتال میں این آئی سی وی میں جاری بچوں کے کارڈیک یونٹ کا زیرتعمیر منصوبہ جو جہ کچھ عرصے کے لئے بند کیا گیا ہے، وہ پانی چوروں کے لئے  خزانہ بن گیا ہے۔

ہسپتال میں ایک طویل عرصے سے منصوبے کی ڈی واٹرنگ کے نام پر کئی لاکھ گیلن پانی چورایا گیا ہے اور ان سے شہر بھر میں ٹینکر کے ذریعے بیچا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک 5 لاکھ گیلن پانی چوری کیا گیا ہے۔ اس کالے دھندے میں واٹر بورڈ، اسپتال انتظامیہ، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ، پولیس اور کئی دیگر ادارے بھی شامل ہیں۔

ہسپتال انتظامیہ سے جب اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے لا عملی کا مظاہرہ کیا اور دوسری جانب واٹر بورڈ کے ایکسین نے بھی تمام الزامات مسترد کیے۔

ٹھیک ہے الزامات مسترد کئے گئے ہیں، مگر اس میں تو کوئی دو رائے نہیں ہے کہ پانی چوری ہو رہا ہے تو پھر اب تک ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟ انتظامیہ کیوں خاموش ہے، انتظامیہ کے ناک کے نیچے سب ہو رہا ہے اور وہ لا علمی کا مظاہرہ کیسے کر سکتے ہیں؟

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us