بچی کو سنگسار کرنے والے کون؟

ضلع دادو میں کیر تھر کے پہاڑی علاقے میں 21 اور 22 نومبر کی درمیانی شب ایک افسوس ناک واقعہ پیش آیا۔ ایک 10 سالہ بچی کو زندہ سنگسار کرکے خاموشی سے دفن کردیا گیا۔

بلوچستان سے متصل علاقے میں اس بچی کو سنگسار کر کے بے دردی سے قتل کرنے والے کوئی دشمن نہیں بلکہ اس کے ماں باپ تھے۔

اس واقعے کی خبر منظرعام  پر آنے کے بعد ایس ایس پی دادو ڈاکٹر فرخ رضا نے تعلقہ جوہی کے علاقے واہی پانڈھی پولیس کو ہدایت کی کہ وہ واقعے کی تحقیقات کرے۔ جس کے بعد پانڈھی پولیس نے پہلے امام مسجد کو حراست میں لیا جس نے اس بچی کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔ پھر اس کی رہنمائی پر لڑکی کے والدین کے گھر پہنچے۔

ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کے والد، رشتہ دار اور 4 دیگر افراد نے بچی کے قتل کی سازش کی اور لڑکی کو پتھر مار مار کر قتل کردیا گیا۔  ایس ایس پی رضا کے مطابق واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اب تک والدین سمیت 3 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیات کر رہے ہیں کیونکہ لڑکی کی موت کی نوعیت کے بارے میں طرح طرح کے دعوے کیے جارہے ہیں۔ جبکہ لڑکی کے والدین کا کہنا ہے کہ لڑکی حادثاتی طور پر پہاڑ سے گر کر مری۔

ڈی آئی جی نعیم شیخ نے دعوی کیا ہے کہ ملزمان کے ریمانڈ اور بچی کی لاش نکالنے کے لیے متعلقہ مجسٹریٹ کی عدالت میں درخواست دائر کی جائے گی۔ جس کے بعد لاش کا پسٹ مارٹم کیا جائے گا جس سے موت کی اصل وجہ سامنے آسکے گی۔    

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us