گلگت بلتستان کی عوام بے یارو مددگار

30 دسمبر کی رات شمالی صوبہ گلگت بلتستان سمیت ملک کے مختلف اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ جن کی ریکٹر اسکیل پر شدت 5 اعشاریہ 6 ریکارڈ کی گئی۔

2001 کے بعد ایک بار پھر گلگت بلتستان بالخصوص ضلع استور سے ملحق علاقے ڈشکن، ڈوئیاں، تربلنگ، مشکن ،شلتر کو زلزلے نے ہلا کر رکھہ دیا۔  

تھلِچی سے ہرچو تک روڈ نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، جگہ جگہ زلزلے کے شدید جھٹکوں کی وجہ سے کہیں زمین کے پھٹ جانے سے تو کہیں پر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں مٹی کے تودوں سے حال ہی میں بننے والا روڈ ایک بار پھر ویرانی کا شکار ہے۔

کچھ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکوں نے  کوئی مکان رہائش کے قابل نہیں چھوڑا۔ تاحال کئی دن گزرنے کے باوجود مقامی لوگوں کے مطابق زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جارہے ہیں۔

 14جنوری کی رات 3 بجے بھی زلزلے کے  شدید جھٹکے محسوس کیئے گئے۔

سوشل میڈیا پر ہر شخص اپنا احتجاج اور اپنی بساط کے مطابق حکومت سے ریلیف مانگ رہا ہے لیکن نہ تو ابھی تک وہاں کے باسیوں کو مکمل ریلیف دینے میں حکومت اور ادارے کامیاب ہوے ہیں اور نہ ہی زلزلہ زدگان کے لیے حکومت نے کوئی متبادل راستہ نکالا ہے۔

نام کے وزیر اعلی پریس کانفرس کرکے کہتے نظر آئے زلزلوں کو کوئی نہیں روک سکتا لیکن کیا زلزلے کے بعد متاثرین کو ریلیف نہیں دی جاسکتی تھی؟

 وفاقی دارالحکومت اسلام آباد جاکر ریلیف منظور کرواسکتے تھے آپ نے ایسا نہیں کیا کیونکہ اگر آپ ایسا کرتے اور وفاق سے ریلیف مل جاتا تو آپکی سیاست ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے دفن ہوجاتی۔

آپ چوروں کی تیمارداری اور اور استقبال کے لیے تو اسلام آباد جاسکتے ہیں لیکن جن غریبوں کے ووٹ سے آپ نے حکومت بنائی انکے حقوق کے لئیے اسلام آباد تو کیا بونجی کے علاوہ ان علاقوں کا رخ ہی نہیں کیا۔

پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک میڈیا نے ان متاثرین کی آواز کو حکومتی ایوانوں تک پہنچانے میں کوئی کردارادا نہیں کیا،

شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان کا انتہائی پسماندہ علاقہ ضلع استور جو  سماجی اور معاشی ہر لحاظ سے پسماندہ ہے

تو دوسری طرف ٣٠ دسمبر کی رات دس بجے  آنے والے زلزلوں نے جہاں پورے گلگت بلتستان میں لوگوں کے اندر خوف و ہراس پیدا کیا تو وہیں پر ضلع استور بالخصوص ڈوئیاں، ڈشکن، شلتر، مشکن، تربلنگ کے باسیوں کو بے یارومدد گار کردیا۔

لوگ گھر کی چھت سے محروم ہوکر منفی پندرہ کی اس شدید سرد راتوں میں کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

تیس دسمبر دوہزار انیس کی آخری شب کے زلزلے نے ایک بار پھر بہت سارے سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔

کِیا استور میں کوئی ایک ایسا لیڈر موجود نہیں جو حکومت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے حقوق لے سکے؟ صرف لفافوں کی تھاپ پر ناچنے والے صحافی کیا کبھی عوام کی آواز ایوانوں تک پہنچائیں گے؟ کِیا اداروں نے اپنی ذمہ داری نبھائی یا پھر روایتی بیانات تک محدود رہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us