کچرے کا تحفہ

 

پاکستان کا معاشی حب کہلانے والا کراچی ہر دور میں حکومتی  توجہ ملنے کے معاملے میں نظر انداز ہی رہا۔ وفاقی حکومتوں نے ہی نہیں سندھ کی صوبائی حکومت نے بھی اسے ترقیاتی کاموں کی مد میں ملنے والے فنڈز سے اپنے  اکاونٹس تو بھرے مگر ایک پیسہ بھی اس پر لگانے کی زحمت نہ کی۔

اگر بلدیاتی اداروں کی بات کریں تو انہوں نے کراچی کو کچرے کے ڈھیر، ابلتے گٹر اور فنڈز کی کمی کے رونے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ کے ایم سی،ڈی ایم سی اور سولڈ ویسٹ مینیجمنٹ جیسے ادارے کراچی کو صاف کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔

کراچی شہر اس لحاظ سے بہت بد قسمت رہا ہے کہ یہاں کوئی بھی آنے والی حکومت مکمل پلاننگ سے کام نہیں کرتی۔ ہر آنے والی حکومت اپنے منصوبے لے آتی ہےاور اس حکومت کے جانے کے بعد کوئی اور نیا منصوبہ بنالیا جاتا ہے۔

کراچی میں اول تو کچرا اٹھایا نہیں جاتا اور اگر اٹھایا جاتا ہے تو اس طرح کے وہ ٹرک جس میں تمام کچرا جمع کرکے ڈمپنگ اسٹیشن تک لےجایا جارہا ہوتا ہے وہ ان تمام سڑکوں کو گندا کرتا ہوا جارہا ہوتا ہے جہاں سے وہ گزرتا ہے۔ فضا میں پھیلنے والے تعفن کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس فضا میں سانس لینے کی وجہ سے شہری کئی خطرناک بیماریوں کا شکار بھی ہوتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us