انتہا پسند ہندوستان!

آج بھارتی عدالت نے بابری مسجد کی متنازعہ زمین پر فیصلہ سنایا۔ اور فیصلہ ہندوؤن کے حق میں سنایا، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس زمین پر مسلمانوں کی عبادت گاہ قائم تھی جس کو مسمار کیا گیا تھا اور ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام بھی کیا گیا تھا، عدالت نے فیصلہ ہندو انتہا پسندوں کے حق میں سنایا۔ یہ فیصلہ بھارت کے اداروں کی بیمار ذہنیت اور انتہا پسندی کا خوب مظاہرہ کر رہا ہے۔ بھارت کی عدلیہ آزاد نہیں بلکہ وہ انتہا پسندی میں جکڑی ہوئی ہے۔ 1992 میں بھارت میں انتہا پسند تنظیم بی جے پی کے غنڈوں نے بابری مسجد کو مسمار کر دیا تھا یہ کہہ کر کہ اس زمین پر ان کے بھگوان رام پیدا ہوئے تھے۔ بابری مسجد کے شہید ہونے کے بعد  مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیاں تصادم ہوا تھا جس میں 2000 مسلمان شہید ہو گئے تھے۔

جب یہ واقعہ پیش آیا تھا اس دوران بھی بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں نے ہی مسجد کو شہید کیا تھا اور آج بھارت میں وہی انتہا پسند جماعت حکمرانی کر رہی ہے۔ اس لئے فیصلہ بھی مودی سرکار نے اپنے حق میں کروایا ہے پہلے بھارت میں اتنی انتہا پسندی نہیں تھی جتنی آج ہے اور مودی سرکار اس کا ثبوط ہے۔ 1992 میں جب یہ واقعہ پیش آیا تھا تب بھارت میں انڈین نیشنل کانگریس کی حکومت تھی، یہ پارٹی اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کا دعوہ کرتی تھی مگر وہ ایسا کرنے میں نا کام رہی، اور بھارتی انتہا پسند جیت گئے تھے۔ اور بھارت کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا تھا۔

بھارت کے سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ سنایا کہ ایودھیا کی متنازعہ زمین ہندوؤن کے حوالے کی جائے اور اس پررام مندر بنانے کے لئے ایک ٹرسٹ بنایا جائے اور مندر کا تعمیراتی کام شروع کر دیا جائے۔ اور مسلمانوں کو پانچ ایکڑ کا پلاٹ دوسری جگہ پر دے دیا جائے. بھارت کے سپریم کورٹ نے اس فیصلے کی وضاحت کس اس طرح کی ہے کہ آثار قدیمہ کی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ بابری مسجد خالی زمین پر نہیں تعمیر کی گئی تھی، بلکہ وہاں پر پہلے سے ہندوؤن کی اڈگاہ موجود تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کو جعلی رپورٹ نہیں کہہ سکتے۔ وہ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ہندوؤں نے جو الزامات لگائے تھے وہ درست تھے اور مسلمانوں نے مندر توڑ کر مسجد بنائی۔ ہزاروں مسلمانوں کی شہادت کے بعد بھی آج مسلمان بھارت میں موجود کالے نظام کے سامنے ہار گئے۔ یہ فیصلہ بھارت کے سیکیولرزم پر تماچہ ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کو واضع کرتا ہے کہ بھارت صرف ہندوؤن کا ہے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us