نسل کی آبیاری میں میرا وجود مٹی!

پرایا دھن کہلائی جانے والی بیٹی کا بوجھ جتنا جلدی اتر جائے اتنا ہی اچھا ہے۔ اور پھراس سوچ کے ماننے والوں کے یہاں کوئی مناسب رشتہ آجائے تو سونے پہ سہاگہ۔ بس چٹ منگنی پٹ بیاہ کرو اور جان چھڑاؤ۔

میں سنبل(فرضی نام) نویں جماعت میں ابھی پڑھ ہی رہی تھی کہ میرے لیے ایک بہت اچھے کھاتے پیتے گھر سے رشتہ آگیا۔ میری عمر اس وقت سولہ سال تھی۔ امی ابو کے لیے میں بلکل بوجھ نہیں تھی شاید امی ابو میری شادی کے لیے تیار بھی نہیں تھے لیکن آس پاس کے لوگوں اور رشتہ داروں نے انکے کان کھالیے کہ تم اتنا اچھا رشتہ گنوا رہے ہو، پڑھائی کا کیا ہے ہوتی رہے گی، اچھے لوگ ہیں کھاتے پیتے انہیں کیا کسی بات کی پریشانی، نائن کلاس کے پیپرز دینے کے بعد مجھے بلکل بھی اس بات کا علم نہیں تھا کہ میرا مستقبل کیا ہے؟ کیا میں آگے پڑھ سکوں گی؟ میٹرک میں داخلہ ہوگا بھی یا نہیں۔

اسی کشمکش کی کیفیت میں مجھے پتہ چلا کہ میری شادی طے ہوچکی ہے، راہیل(فرضی نام) عمر میں مجھ سے کافی بڑے تھے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور میں کب تک اپنے امی ابو کے گھر ٹہرنے والی ہوں؟ بس کچھ پتہ نہ چلا جھٹ پٹ شادی کروادی گئی۔ شادی کے بعد مجھے شادی شدہ زندگی کے سارے فرائض سے آگاہ کیا گیا مگر میرے حقوق کے حوالے سے مجھے کسی نے کوئی رہنمائی نہیں دی۔ میں ہر لمحہ خود کو ایک ایسے تاریک جنگل میں کھڑا پاتی جس کے ہر اگلے قدم پر مجھے کس نئی آزمائش کا سامنا ہو میں نہیں جانتی تھی۔ گرِ پڑ کر زندگی گزرتی رہی وہ زندگی جسے ہر انسان جینے کی خواہش رکھتا ہے۔ چند مہینوں میں وہ کھاتا پیتا گھر مجھ پر تنگ ہونے لگا، تعلیم کا تو نام ہی بھول گئی، کون سی پڑھائی؟ کیسی ڈگری؟ گھر کے تمام ملازموں کو ملازمت سے نکال کر تمام کاموں کی ذمہ داری مجھ پر ڈال دی گئی۔ مجھے اب ایک اچھی بیوی اور بہو کا کردار ادا کرنا تھا۔ ایک سال کے اندر میرے یہاں بیٹے کی پیدائش ہوئی، اللہ نے جو اولاد کسی بھی عورت کے لیے نعمت بناکر بھیجی ہے اسے میرے لیے زحمت بنادیا گیا۔ اب مجھے ایک اچھی ماں کا کردار بھی بخوبی نبھانا تھا، مسلسل کام کرنے دیر سے سونے جلدی جاگنے کھانے پینے کا دھیان نہ رکھنے کی وجہ سے میری صحت گرتی گئی۔ مجھے لگنے لگا تھا میری ذات کوئی انسان نہیں صرف ایک مشین ہے جو دن میں ایک ماں اور بہو کا کردار نبھاتی ہے اور رات میں بیوی کا۔ میں اپنی ذات میں بلکل اکیلی ہوگئی تھی۔ پرائے دھن کی دقیانوسی روایت نے میرا بچپن مجھ سے چھینا، جس میں میرے ماں باپ بھرپور حصہ دار بنے۔ میری سوچ جسے ابھی عقل و حکمت کے اعتبار سے پختگی کی ضرورت تھی ماں جیسی اہم ذمہ داری اٹھانے کے لیے اس کے قابل بھی نہ ہونے دیا گیا۔ شوہر جو تمام تر ناانصافیوں اور کمی کے باوجود بات چیت کے رشتے سے مجھے سنوار سکتا تھا میری ڈھارس بندھا سکتا تھا اس نے بھی مجھے صرف ایک عورت ہی سمجھا۔ 

معاشرہ کیسے مجھ سے ایک ایسی نسل پروان چڑھانے کا دعوی کرسکتا ہے جو ہر لحاظ سے بہترین ہو اور مکمل ہو، حالانکہ میں خود اپنی ذات میں ایک ادھوری شخصیت کی مالک ہوں۔  

One thought on “نسل کی آبیاری میں میرا وجود مٹی!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us