پانچ رنز یا چھ بحث چھڑ گئے

کرکٹ کا عالمی کپ تو اتوار کی شب لارڈز کے تاریخی میدان میں اختتام پزیر ہو گیا لیکن انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے سنسنی خیز میچ سے ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے۔

یہ کیسی جیت ہے؟

دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کے مد مقابل آئیں۔ امپائروں سمیت ہر کسی کو سکور بورڈ پر دونوں کا سکور بھی ایک ہی نظر آیا لیکن ایک نے ورلڈ کپ اٹھایا اور دوسری چپ چاپ چلی گئی۔

شاید یہی وجہ ہے کہ شائقین کرکٹ آسٹریلیا سے لے کر افغانستان تک اور انڈیا سے لے کر جنوبی افریقہ تک یہی دو سوال پوچھتے نظر آرہے ہیں:

اوور تھرو کا قانون کیا ہے اور انگلینڈ کو چھ رنز ملنے چاہئیں تھے یا پانچ؟ اگر سپر اوور کے اختتام پر سکور برابر ہو تو ایک ٹیم کو دوسری پر کیسے فاتح قرار دیا جاسکتا ہے؟

آئی سی سی کا باؤنڈری کمیشن پھر کام دکھا گیا اور انگلینڈ کو سبقت دلا دی۔ لیکن قواعد تو قواعد ہوتے ہیں باؤنڈری فارمولا نیوزی لینڈ کی ناؤ بھی پار لگا سکتا تھا، اگر گپٹل نے بھی آرچر کو نیشام جیسا مزا چکھایا ہوتا تو۔۔۔

اوور تھرو کا قانون: تنازع کیا ہے؟

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا تھا جب انگلینڈ کے بیٹسمین بین سٹوکس اور عادل رشید اپنے سپر اوور میں رن لینے کے لیے دوڑے اور نیوزی لینڈ کے فیلڈر مارٹن گپٹل کی تھرو پر دوسرا رن لیتے ہوئے بین اسٹوکس نے ڈائیو لگائی۔

گیند ان کے بلے سے لگ کر باؤنڈری پر چلی گئی اور امپائر نے چھ رنز دے دیے۔

اس وقت کسی نے اس بات کا احساس نہیں کیا کہ قانون کیا کہتا ہے اور کیا بین سٹوکس کے سکور میں چھ رنز ہی دینے چاہئیں تھے۔ لیکن بعد میں اس پر ایک بحث چھڑ گئی جس میں آسٹریلیا کے سابق امپائر سائمن ٹافل اور دیگر سابق کرکٹر بھی شامل ہوگئے۔

اپنے زمانے میں دنیا کے صفِ اول کے امپائر سمجھے جانے والے آسٹریلیا کے سائمن ٹافل کا کہنا ہے کہ امپائروں کمار دھرماسینا اور ایرازمس سے غلطی ہوئی ہے۔ ’انھیں انگلینڈ کو چھ نہیں بلکہ پانچ رنز دینے چاہئیں تھے اور غلطی فیلڈر کے تھرو کی ٹائمنگ کی ہے۔ اوور تھرو کا عمل اس وقت شروع ہوتا ہے جب فیلڈر گیند تھرو کرنا شروع کرتا ہے۔ امپائر کو یہ دیکھنا چاہیے تھا کہ بیٹسمین کہاں ہیں؟‘

پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر بازید خان کا بی بی سی کے عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس بارے میں امپائر غلطی پر تھے کیونکہ جب مارٹن گپٹل نے تھرو کی تھی اس وقت دونوں بیٹسمینوں نے دوسرے رن کے لیے ایک دوسرے کو کراس نہیں کیا تھا اور اس صورتحال میں امپائر کو چھ کے بجائے پانچ رنز دینے چاہئیں تھے۔

بازید خان نے بتایا کہ کرکٹ کے قوانین اس بارے میں بالکل واضح ہیں کہ وہی رن تسلیم کیا جاتا ہے جس میں بیٹسمینوں نے ایک دوسرے کو کراس کر لیا ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us