ہندستان کے مسلمان خطرے میں، بابری مسجد کا فیصلہ قریب

بھارت میں بابری مسجد پر ہونے والے فیصلے سے قبل 500 افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ حکام نے یہ خدشہ ظاہر کیا کہ فیصلہ آنے کے بعد لوگ مشتعل ہو سکتے ہیں اور افرا تفری پھیل سکتی ہے۔

بابری مسجد پر کیس کی سنوائی 17 نومبر کو ہوگی اور اسی دن متنازنہ زمین کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس زمین پر ہندو اور مسلمانوں کا ایک طویل عرصے سے جھگڑا چل رہا ہے۔ اس زمین پر 1992 میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں جھگڑا ہوا تھا، ہندو اس زمین پر مسجد کو ہٹا کر مندر تعمیر کرنا چاہ رہے تھے۔ بابری مسجد کو 1992 میں مسمار کیا گیا تھا، جس کے بعد 2000 مسلمانوں کو مودی سرکار نے قتل کیا تھا۔

ہندوؤں کا یہ دعوٰی تھا کہ مسجد ایسے زمین پر تعمیر کی گئی ہے جہاں پر ان کا رام پیدا ہوا تھا۔ فیصلے سے قبل بھارت بھر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور ایودھیا میں 500 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

بھارتی حکومت کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ حالات نارمل رہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق 70 افراد کو سوشل میڈیا پوسٹ کی وجہ سے بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ حساس علاقوں میں انٹرنیٹ بند کر دیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us