قتل، ریپ یا خودکشی نمرتا کے ساتھ کیا ہوا؟

نمرتا قتل کیس کی پوسٹ مارٹم رپوٹ پر کئی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

نمرتا ہلاکت کیس میں پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کرنے والی ڈاکٹر امرتا جوڈیشل انکوائری افسر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اقبال حسین میتلو کے روبرو لاڑکانہ میں پیش ہوئیں۔ سیشن جج نے ڈاکٹر امرتا کی جانب سے جاری کردہ نمرتا کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سخت سرزنش کی۔

سیشن جج نے ڈاکٹر امرتا سے سوالات کیے۔ ڈاکٹر آپ نے کس کے انفلوئنس پر یہ رپورٹ مرتب کی؟ آپ کی جاری کردہ پرویژنل پوسٹ مارٹم اور حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں واضح فرق کیوں ہے؟ اس کی تحقیقات ہوں گیں۔ ڈاکٹر امرتا آپ سے پولیس نے موت کی وجہ پوچھی تھی؟ آپ نے رپورٹ میں گلہ دبانے اور جنسی عمل کی تصدیق کن اختیارات کہ بنیاد پر کی۔ جس پر ڈاکٹر امرتا نے جواب میں کہا کہ : میں جونیئر ہوں۔ یہ پوسٹ مارٹم نہیں کرنا چاہتی تھی۔ میری میڈیکو لیگل افسر کے طور پر تعیناتی جس شام کو ہوئی اسی شام یہ کیس سونپ دیا گیا۔

جس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے سوال کیا: آپ نے یہ اعتراضات تحریری طور پر میڈیکل سپریٹنڈنٹ یا سندھ حکومت کو کیوں نہیں دئے؟

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی جانب سے ڈاکٹر امرتا کو باقاعدہ شامل تفتیش کرنے کا امکان بھی ہے۔

یاد رہے کہ 16 ستمبر 2019 کو لاڑکانہ کے آصفہ ڈینٹل کالج کی فائنل ایئر کی طالبہ نمرتا کی لاش کالج ہاسٹل میں ان کے کمرے سے ملی تھی۔ جس کے بعد ابتدائی پوسٹ مارٹم رپوٹ میں موت کی وجہ خودکشی کو قرار دیا گیا تھا۔ جس کے بعد قبل لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز (لمس) جامشوروکی ڈی این اے رپورٹ کے مطابق نمرتا کے کپڑوں سے نامعلوم شخص کے نمونے ملے ہیں لیکن برآمد اجزاء نمرتا کے گرفتار ساتھی طلبہ مہران ابڑو اور شان میمن سے مماثلث نہیں رکھتے تھے۔ جبکہ گزشتہ روز نمرتا کی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ ویمن میڈیکل افسر ڈاکٹرامرتا نے سیشن جج لاڑکانہ کی عدالت میں جمع کرائی تھی۔ جس میں نمرتا کی موت کی وجہ دم گھٹنا قرار دی گئی تھی۔ اس کے بعد نمرتا قتل کیس مزید الجھ گیا ہے۔ آخر نمرتا کی موت کیسے ہوئی؟ ریپ، قتل، خودکشی اور حادثہ نمرتا قتل کیس کی حقیقت اب تک معلوم نہ کی جاسکی؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us