انصاف دم توڑ گیا

انصاف کی تلاش میں عدالتوں کے چکر لگا لگا کر نہ جانے کتنے سائلین عدالتوں کے اندر اور باہر انصاف ملنے کی تمنا چھوڑ بیٹھتے ہیں اور کئی تو جان کی بازی تک ہار دیتے ہیں۔

ایسے ہی ایک انصاف کے متلاشی باپ نے جوان بیٹا کھونے کے بعد آخر تک انصاف کے حصول کی جنگ جاری رکھی لیکن آج اس باپ کی انصاف کی متلاشی آنکھیں ابدی نیند سوگئیں۔

جعلی پولیس مقابلے میں پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے نقیب اللہ محسود کے والد انتقال کرگئے۔ ان کی تدفین جنوبی وزیرستان کے آبائی علاقے مکین میں کی جائے گی۔

خاندانی ذرائع کے مطابق نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان کینسرکے عارضے میں مبتلا تھے اور کچھ عرصہ سے راولپنڈی کے اسپتال میں زیر علاج تھے۔

واضح رہے کہ 13 جنوری 2018 کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے نوجوان نقیب اللہ محسود کو دیگر 3 افراد کے ہمراہ دہشت گرد قرار دے کرپولیس مقابلے میں مار دیا تھا۔

جس کے بعد سوشل میڈیا صارفین اور سول سوسائٹی کے احتجاج پر سپریم کورٹ نے واقعے کا از خود نوٹس لیا۔ از خود نوٹس کے بعد راؤ انوار روپوش ہوگئے اور اسلام آباد ایئر پورٹ سے دبئی فرار ہونے کی بھی کوشش کی لیکن اسے ناکام بنادیا گیا۔ کچھ عرصے بعد وہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے جہاں سے انہیں گرفتار کرلیا گیا تاہم بعد میں رہا کردیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us