منظم فراڈیوں کے جدید ہتھکنڈے

کبھی کوئی عاصمہ ، عائشہ تو کبھی کوئی صبا میسیج کرکے کہتی ہے میرے نمبر پر سو روپے کا بیلینس ڈال دو میں اسپتال میں ہوں ایمرجنسی ہے، کبھی کسی نامعلوم نمبرسے میسیج یا کال آتی ہے کہ ایک مشہور ٹی وی گیم شو کی قرعہ اندازی میں آپکا 2 لاکھ روپے کیش اور دو تولے سونا انعام میں نکلا ہے۔

یہ حال صرف انعامی گیم شو اور مفت میں بیلنس حاصل کرنے تک ہی محدود نہیں بلکہ اب تو اکاؤنٹ چٹ کرنے تک نوبت آپہنچی ہے۔

اب 100 اور 150 میں سم کارڈ با آسانی دستیاب ہونگے تو نمبر بدل کر لوگوں کو لوٹنا کونسی مشکل بات ہے۔ اور ہاں اگر آپکو کئی نامعلوم نمبرز سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لاکھوں کا انعام موصول ہونے کے میسیجز نہیں آئے تو معذرت کے ساتھ آپ بہت ہی بد قسمت ہیں۔

ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی آسان کی یا ہمیں نکما بنانے میں اہم کردار ادا کیا اس بحث میں ہم نہیں پڑیں گے۔ مدعا یہ ہے کہ کیا اس ٹیکنالوجی کے جال کو مانیٹر کرنے والے اس قابل بھی ہیں کہ لوگوں کی سالوں کی جمع پونجی اور محنت کی کمائی کو محفوظ رکھ سکیں۔

ہمارے یہاں سائبر کرائم کا کردار فیلڈ میں کتنا مؤثر ہے یقینا ہم سب بخوبی اس سے واقف ہیں۔ حال ہی میں میری بس میں ایک ادھیڑ عمر کی خاتون سے بات ہوئی۔ باتوں باتوں میں جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ میں ایک خبر رساں ایجنسی میں کام کرتی ہوں تو فورا بولیں بیٹا تم کیا میری ایک شکایت آگے پہنچا سکتی ہو۔ میرا جواب سنے بغیر ہی انہوں نے اپنی کہانی سنانا شروع کردی۔

میری پانچ بیٹیاں اور ایک ہی بیٹا ہے میرے شوہر کا انتقال ہونے کے بعد اس نے ہی گھر کا خرچہ سنبھالا۔ یہاں تو نوکری کا مسئلہ، کون نوکری دیتا ہے اور ہمارے یہاں تو کوئی اسکول بھی نہیں گیا کبھی اس لیے ایک محلے دار بڑے ہی بھلے لوگ ہیں ہمارے پڑوس والے انہوں نے اسے دوبئی بھیجنے میں مدد کی۔ اب وہ ماشااللہ دوبئی میں محنت مزدوری کرکے مجھے خرچے کے پیسے بھیجتا ہے۔ وہ پیسے وہ وہاں سے یہاں کسی آفس میں بھیجتا ہے آفس کا نام شاید حبیب ہے۔ میں تو بس جاتی ہوں اپنی عظمی کے ساتھ ، وہ اے سی والے چھوٹے سے کمرے میں لے کر جاتی ہے وہاں ایک مشین میں سے غرارے کرنے کی آوازیں آتی ہیں بس اس مشین میں کارڈ ڈالتے ہیں تو پیسے آجاتے ہیں۔ میری عظمی سب بچوں میں سب سے ہوشیار ہے۔

میں انکی تمام باتیں خاموشی سے سنتی رہی۔ انہوں نے بتایا کہ ایک دن مجھے ٹیلی فون پر ایک پیغام آیا چھوٹی بیٹی نے بتایا اماں کوئی نامعلوم نمبر ہے بھیا کا نہیں ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ ہم پیسے والی مشین میں سے پیسے نہیں نکال سکتے کیونکہ ہمارا کارڈ خراب ہوگیا ہے۔ اور لکھا ہے اگر اے ٹی ایم کارڈ ٹھیک کرانا ہے تو اس نمبر پر واپس میسیج بھیجیں۔

بیٹا ہم تو پریشان ہوگئے ہیں کہ اگر وہ کارڈ نہ چلا  تو گھر کا خرچہ اور کرایہ کیسے دیں گے۔ بس شاہینہ نے ایک میسیج کیا پھر کال آگئی اس کے بعد اس نے جو کچھ پوچھا، شاہینہ بینک کی کاپی سے دیکھ کر سب بتاتی گئی۔ اسکے بعد میرے بیٹے کے سارے پیسے پتہ نہیں کہاں چلے گئے۔ میں نے اسلم کو فون کیا تو وہ پریشان ہوگیا۔ اسکے بعد ہم نے بینک کے پتہ نہیں کتنے چکر لگائے، مارے مارے پھرے مگر وہ پیسے واپس نہ ملے۔ بیٹا جو یہ حرام خور پولیس ہوتی ہے نا اس کے پاس بھی گئی مگر انہوں نے بھی کچھ نہیں کیا۔

میرا اسٹاپ آچکا تھا مجھے اب بس سے اترنا تھا انہوں نے کہا بیٹا تم ضرور یہ خبر چھاپنا، کیا پتہ لوگ تمہاری خبر پڑھ کر دھوکہ کھانے سے  بچ جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us