جعلی ڈگری اور اصلی ڈگری برابر کیسے؟

 

ملک میں اس قدر دو نمبری عام ہے کوئی بھی شعبہ اس سے بچا نہیں رہا اور صحت اور تعلیم تو ویسے بھی ہمارے ملک میں اہم نہیں سمجھے جاتے۔

اس صورتحال میں ایک طالب علم جو کئی سال محنت سے پڑھ کر ملازمت کے حصول کے لیے پہنچتا ہے اور ایک کچھ روپوں کے بدلے جعلی ڈگری خرید کر اس کے برابر آکھڑا ہوتا ہے۔ ملک میں قانون کی بالادستی نہ ہونے کے برابر ہے۔ جس کے باعث جعلی ڈگریاں بنانے والے مشکل ہی سے پکڑ میں آپاتے ہیں۔ اور ایک ایسے معاشرے میں جہاں کے سیاستدان یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے چاہے جعلی ہو یا اصلی۔

گزری پولیس نے مخبر کی اطلاع پر پی این ٹی کالونی کے ایک مکان پر کارروائی کے دوران 5 ملزمان سردار احمد، کاشف ، محسن علی ، محمد طارق اور سید عبدالغنی کو گرفتار کرکے ان کے قبضے سے اعلی تعلیمی اداروں 38 اصل تحریر شدہ پرنٹ جس میں 04 عدد دستاویزات اعلی تعلیمی اداروں کے پرنٹڈ بغییر کچھ لکھے ہوئے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور مختلف اداروں کے جعلی پرنٹڈ اسٹیکر ، مختلف ممالک کے پرنٹڈ ٹکٹیں ، 2 عدد پے آرڈر عسکری بینک سمیت سیکڑوں دستاویزات برآمد کرلیے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے دوران تفتیش اعتراف کیا ہے کہ کافی عرصہ سے یہ کام کر رہے ہیں جبکہ جامعہ کراچی ، انٹر اسکول اور میٹرک کی جعلی سند ومارک شیٹ تیار کر کے فروخت کرتے ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔

سوال یہ ہے کہ اسطرح کے کئی گروہ ہمارے معاشرے میں سرگرم ہیں وہ کب قانون کی گرفت میں آئیں گے؟ اور کب ہنگامی بنیادوں پر ان جعلی دستاویزات بنانے والے گروہوں اور انکے پیچھے چھپے بڑے بڑے اعلی افسران بے نقاب ہو سکیں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us