للّو مت چلاؤ!

کچھ عرصہ پہلے ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں ایک میرج بیورو والی خاتون شادی شدہ لڑکیوں کو ڈانٹ رہیں تھیں اور کہہ رہیں تھیں کہ”للّو مت چلاؤ۔۔۔ اپنی زبان بند رکھو!!“۔ اس وڈیو میں خاتون نے گھریلو ناچاقی اور نوبت طلاق تک آنے کا ذمہ دار صرف اور صرف خواتین کو قرار دیا جس کا شدید ردعمل سامنے آیا اور عورتوں کے علاوہ بہت سے مردوں نے بھی اس کی مذمت کی۔ بہت سے سوالات ہیں جو جواب طلب ہیں۔ کیا صرف ایک شخص کے زبان بند رکھنے سے ازدواجی تعلقات خوشگوار رہ سکتے ہیں؟ کیا گھر بسائے رکھنا صرف عورت کی ذمّہ داری ہے، مردوں کا اس میں کوئی کردار نہیں؟؟ عورت ہمیشہ زبان بند رکھے کیوں کہ یہ عورت کا فرض ہے اور مرد ہر وقت اپنے لفظوں کے تیر سے گھائل کرتا رہے کیوں کہ یہ اس کا حق ہے؟؟؟ کسی وقت عورت کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو جاتا ہے اور وہ اپنی ”للّو“ چلا بیٹھتی ہے اور پھر کوئی حادثہ رونما ہوجاتا ہے۔ بقول شاعر،

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

زبانی تشدد کا شکار تقریباً ہر شخص ہوتا ہے۔ جس طرح سب انگلیاں برابر نہیں ہوتیں بلکل اسی طرح تمام مرد و عورتیں بھی ایک جیسے نہیں ہوتے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ زیادہ تر خواتین بالخصوص شادی شدہ عورتیں ہی اس کا شکار ہوتی ہیں مردوں کو اس کا سامنا عورتوں کی نسبت کم ہی کرنا پڑتا ہے اسی لئے اس مضمون میں شادی شدہ مستورات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

روز مرہ کی زندگی میں اکثر و بیشتر افراد زبانی تشدد میں ملوث ہوتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ زبانی تشدد(Verbal Abuse)ہے کیا؟ گھریلو تشدد کی مختلف اقسام ہیں جن میں سے ایک یہ زبانی تشدد ہے جو کہ جسمانی تشدد ہی کی طرح خطرناک ہے۔ یہ ایک ایسا اذیت ناک اور خراب عمل ہے جس میں کسی کی بے عزّتی کی جائے، مذمت کی جائے اور پُر زور تنقید کی جائے۔ غصّے، دشمنی یا نفرت کے جذبات سے مغلوب ہو کر کسی شخص کے ذاتی خیالات و نظریات کو مجروح کیا جائے اور منفی جذبات پیدا کئے جائیں۔ بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ تشدد کا مطلب جسم کو زخمی کرنا ہے۔ جسمانی تشدد بہ آسانی پہچانا جا سکتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی نے آپ کو مارا یا زدو کوب کیا مطلب آپ پر جسمانی تشدد کیا گیا کوئی دوسرا خیال آہی نہیں سکتا کیوں کہ زخم یا نشان اس کا واضح ثبوت ہوں گے۔ مگر زبانی تشدد یا زبانی طور پر حملہ یا وار کرنا اس سے مختلف ہے اس میں نقصان اندرونی ہوتا ہے کوئی جسمانی چوٹ یا نشان نہیں ہوتے صرف ایک زخمی روح ہوتی ہے اور خود اعتمادی و عزّت نفس کے چکنا چور ہونے کا تکلیف دہ احساس ہوتا ہے۔کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زیادتی کرنے والے میں خود اعتمادی کی کمی ہوتی ہے اور اسی لئے وہ دوسرے شخص میں بھی اس کی کمی دیکھنا چاہتا ہے کیوں کہ یہ بد سلوکی یا تشدد کرنے والے کی فطرت ہے کہ وہ اپنی بالا دستی اور حکمرانی چاہتا ہے اور اپنے ساتھی کی برابری تسلیم کرنے پر رضامند نہیں ہوتا اسی لئے اس کے احساسات اور خیالات کی نفی کرنے پر مجبور ہوتا ہے۔اسے اپنے رفیق پر بلکل یقین نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں متاثرہ شخص نفسیاتی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔اس عمل کا مظاہرہ کبھی کبھا ر بھی ہوتا ہے اور مسلسل بھی کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگوں کے لئے یہ دوسروں سے انتقام لینے،جان بوجھ کر دوسروں کو اپنے قابو میں کرنے،انہیں نیچا دکھانے یا ارادتاً ساز باز کرنے کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔

عام شادی شدہ گھریلو خواتین کہتی ہیں کہ”انسان ہاتھ کی مار بھول جاتا ہے مگر زبان کی مار کبھی نہیں بھولتا۔کچھ لوگ ویسے تو بہت اچھے ہوتے ہیں مگر کسی خاص صورت حال میں وہ اپنی زبان کی وجہ سے اپنی اچھائی بھی دھو دیتے ہیں“۔

ایک خاتون کی رائے کے مطابق ”Verbal Abuse سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کی حیثیت کیا ہے۔عموماً اسے کوئی اہمیت ہی نہیں دی جاتی ہے اور اسے شوہر اور سسرالیوں کا حق سمجھا جاتا ہے کہ وہ کچھ بھی کہہ دیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ کوئی مرد کو کچھ نہیں کہتا یا سمجھاتا بلکہ کہا جاتا ہے کہ،”تو کیا ہوا؟ مرد تو ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔۔“ اور اگر بیوی ایسی کوئی بات کردے تو فوراً پکڑ میں آجاتی ہے“۔

زبان اگرچہ تلوار نہیں پر تلوار سے زیادہ تیز ہے تلوار کا زخم بھر جاتا ہے مگر زبان سے لگایا ہوا زخم کبھی مندمل نہیں ہوتا۔ بات اگرچہ تیر نہیں مگر تیر سے زیادہ زخمی کرتی ہے۔ زبان سے نکلے ہوئے الفاظ اور کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی لوٹ کر واپس نہیں آتے چاہے انسان لاکھ پچھتائے کیوں کہ جب تک الفاظ زبان سے ادا نہیں ہو جاتے یہ انسان کے تابع ہوتے ہیں مگر جب یہ زبان سے ادا ہوجاتے ہیں تو انسان اپنے ہی لفظوں کا غلام ہو جاتا ہے۔ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ ”پہلے تولو۔۔۔پھر بولو“۔

ایک معمر خاتون کا کہنا ہے کہ،”عورت ہی عورت کی دشمن ہے۔جو مرد کے ذریعے دوسری عورت پر ظلم و تشدد کرواتی ہے خواہ وہ زبانی ہو یا جسمانی۔سارا کھیل اصل میں تربیت کا ہوتا ہے۔گاڑی ایک پہیے پر نہیں چلتی۔زیادہ تر مرد حضرات شادی ہونے سے پہلے ہی اپنے آپ کو مجازی خدا سمجھ لیتے ہیں“۔
ایک اور خاتون نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ”ہر تھپڑ زخم کا باعث نہیں ہوتا نہ ہی کوئی نشان چھوڑتا ہے اسی طرح ہر تشدد بھی کسی میڈیکل رپورٹ میں ریکارڈ ہونے جیسا نہیں ہوتا۔آپ ثبوت طلب نہیں کر سکتے جبکہ مجرم آزادانہ گھوم رہا ہو“۔
عام طور پر خاندانی تعلقات میں خاص طور پر میاں بیوی کے درمیان زبانی بدسلوکیوں و زیادتیوں کی شدت بڑھ جاتی ہے اور وقت کے ساتھ یہ کثرت اختیار کر لیتی ہے۔رشتہء ازدواج میں زبانی تشدد کرنے والا (جو کہ زیادہ تر شوہر حضرات ہوتے ہیں)یقینی طور پر اپنے ساتھی کی انفرادیت،خواہشات،تاثرات اور قابلیت کو نشانہ بناتا ہے کیوں کہ وہ ان سب باتوں کو اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے اور اپنی ذات پر حملہ تصور کرتا ہے اس کے علاوہ سزا دینے کے لئے تکلیف دہ لفظوں کا استعمال کرنا ایک خفیہ طریقہ ہے جس سے اپنے ساتھی کو ٹارچر کیا جاسکے۔اس بات سے قطع نظر کہ آپ کا شریک زندگی آپ سے کتنی محبت کرتا ہے Verbal Abuseسراسر غلط ہے اور جیسا کہ پہلے بتا یا جا چکا ہے کہ یہ جسمانی تشدد جتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔مزید یہ کہ متاثرہ شخص اپنے آپ کو غیر اہم اور اپنی ضروریات کو غیر متعلقہ خیال کرنے لگتا ہے۔
خواتین پر تشدد خواہ وہ کسی بھی صورت میں ہو ان کی جسمانی صحت کے لئے تباہ کن ثابت ہوتا ہے اور وہ بلڈ پریشر اور امراض قلب کا آسان ہدف بن جاتی ہیں اسی لئے کسی بھی قسم کا تشدد ناقابل قبول ہے۔دوسری جانب ذہنی تشدد خواتین کی شخصیت اور صلاحیتوں کو بھی متاثر کرتا ہے اور انہیں ہمہ وقت خوف،احساس کمتری اور کم اعتمادی کا شکار بنا دیتا ہے اس کے علاوہ ان کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو بھی ختم کردیتا ہے اور سب سے بڑھ کر انہیں شدید ڈپریشن کا عارضہ لاحق ہوجاتا ہے جس کے سبب کسی بھی خاتون کی اپنے بچوں کی نگہداشت کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے جو کہ آئندہ نسلوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق خواتین کو ذہنی طور پر ٹارچر کرنا،ان پر جسمانی تشدد کرنا،بد کلامی کرنا اور ایسا رویہ اختیار کرنا جو صنفی تفریق کو ظاہر کرے تشدد کی اقسام ہیں اور یہ نہ صرف خواتین بلکہ انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے۔پاکستان میں گھریلو تشدد ایک مقامی،سماجی اور صحت عامہ کا مسئلہ ہے۔2009میں Human Rights Watchکے تحت کئے جانے والے ایک مطالعے کے مطابق یہ تخمینہ لگایا گیا کہ پاکستان میں 20سے30فیصد خواتین کو کسی نہ کسی طرح کے تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔The Thomson Reuters Foundationکے تحت کئے گئے ایک سروے کے مطابق افغانستان اور کانگو کے بعد پاکستان خواتین کے لئے دنیا کا تیسرا خطرناک ملک ہے۔
جیسا کہ یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ کسی بھی قسم کا تشدد جسم اور روح دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے اسی لئے ہمیں کبھی یہ نہیں سوچنا چاہئیے کہ غلطی ہماری ہی تھی اسی لئے ہمارے ساتھ ایسا ہوا۔ہم اپنی کسی بھی خطا پر تشدد کے حقدار ہرگز نہیں ہوسکتے!!!  گھریلو تشدد کا شکار ہونے والوں کی اکثریت کو قانون کاسہارا نہیں ملتا۔قانون نافذ کرنے والے حکام گھریلو تشدد کو جرم ہی نہیں سمجھتے اور عام طور پر ان کے پاس لائے گئے کیسز کو درج ہی نہیں کرتے۔عورتوں کے ساتھ ہونے والی بہت سی زیادتیوں کی طرح گھریلو تشدد کو بھی ایک طرح کا عزت کا مسئلہ بنا لیا گیا ہے جسے دوسروں سے چھپا کر رکھا جاتا ہے۔
ہمارے ہاں چونکہ لڑکیوں کو یہ سکھایا اور سمجھا یا جاتا ہے کہ شادی کے بعد شوہر اور سسرال ہی سب کچھ ہے اس لئے سب کچھ برداشت کرو،گھر بسانے کے لئے ہر طرح کی قربانی دو اور ہر ظلم سہو۔”کھڑے جانا، آڑے نکلنا“ یعنی میکے سے ڈولی جارہی ہے سسرال سے جنازہ ہی نکلے کچھ ہو جائے واپس مت آنا برداشت کرنا۔سسرالی اور خاوند بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ ساری ذمہ داری عورت پر ہی عائد ہوتی ہے مرد اس سے بری الذمہ ہوتے ہیں ایسے میں زبانی کلامی جو کچھ بھی کہا جائے اسے اہمیت ہی نہیں دی جاتی۔لیکن یہ زبانی کلامی باتیں صرف اسی وقت غیر اہم ہوتی ہیں جب شوہر حضرات کی طرف سے ہوں بیویاں اگر لب کشائی کریں تو یہ زبان درازی اور بدتمیزی کے زمرے میں آتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس حوالے سے سوچ کو بدلا جائے اور جس طرح لڑکیوں کو سمجھایا جاتا ہے اسی طرح لڑکوں کو بھی سمجھایا جائے اور کیوں کہ سب سے زیادہ خواتین ہی متاثر ہوتی ہیں اسی لئے خواتین کو ہی اس میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ایک ماں کی حیثیت سے ہر عورت کو اپنے بیٹے کی تربیت کرتے وقت یہ سمجھانا چاہیئے کہ شوہروں کو بھی بیویوں کا ہر طرح سے خیال رکھنا چاہیئے ان کے حقوق پورے کرنے چاہیئے اور ان پر بھی گھر بسانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور جس طرح انہیں بیوی کے صرف جواب دینے سے تکلیف ہوتی ہے بیوی کو بھی ہر وقت کی زبانی بدسلوکی سے

شدید اذیت ہوتی ہے اور پھر وہ ہمیشہ اپنی ”للّو“ بند نہیں رکھ سکتی کبھی نہ کبھی تو چلا ئے گی کیوں کہ وہ بھی ایک جیتی جاگتی انسان ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us