تھر میں پی پی کا ظلم جاری

تھر میں ایک طویل عرصے سے بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے. مگر یہاں کے بے حس حکمران اس پر خاموش ہیں۔ تھر میں ہر آنے والے دن میں پھول جیسے بچے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ مگر یہاں کہ لوگ اور حکمران اتنے بے حس ہیں کہ کسی کو بھی تھر کے بچے یاد نہیں ہیں۔ یہاں کے حمران اپنے بینک اکاؤنٹ بھرنے میں مگن ہیں اور وہاں ظلم جاری ہے۔

تھرپارکر میں بچے بھوک کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ تھر سندھ کا وہ حصہ ہے جہاں سب سے زیادہ غربت ہے۔ ہر آنے والے دن میں ایک ماں کے اوپر قیامت گزرتی ہے۔ زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم تھری عوام اپنی غربت کے ساتھ ایک تکلیف دہ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس پر ان کے معصوم بچوں کی موت کا نہ رکنے والا سلسلہ ذہنی اذیت کا باعث بنا ہوا ہے،

سندھ میں عشروں سے پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور پاکستانی سیاست میں بھٹو نے پی پی کو غریبوں، کسانوں، مزدوروں کی پارٹی کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا، لیکن یہ کس قدر افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ پیپلز پارٹی اب غریبوں کی پارٹی نہیں رہی۔ تھر میں ہونے والی اموات کے موضوں پر حکمران اپنی آنکھیں، منہ اور کان بند کئے ہوئے ہیں۔ نہ وہ کچھ دیکھتے ہیں نہ ہی سنتے ہیں اور نہ بولتے ہیں۔

تھر میں پچھلے نو مہینوں میں بچوں کی اموات کی تعداد 670 تک پہنچ گئی ہے۔ دو روز قبل تھر کے میں مزید تین بچے زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے ہار گئے جس کے بعد یہ تعداد 670 ہوگئی۔ فوت ہونے والے بچے مٹھی کے سول ہسپتال میں داخل تھے۔ فوت ہونے والے تین بچے مختلف دیہاتوں کے رہنے والے تھے۔ ایک بچے کی عمر 2 سال تھی، دوسرے کی 2 مہینے اور تیسرے کی 3 سال تھی۔ یہ ننھے فرشتے زندگی جینے سے پہلے ہی دنیا چھوڑ کر چلے گئے۔ اس ملک کے حکمرانوں سے روزِ قیامت تھر میں ہونے والی ظلم کے بارے میں ضرور سوال ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us