مجرموں کی عدالت میں نوابی، سیلفیاں ہی سیلفیاں

کراچی میں سٹی کورٹ میں سکھر سے لائے گئے قیدیوں کی نوابی اور ڈھٹائی۔ کراچی کے سٹی کورٹ میں یہ ملزم کھلے عام بیٹھ کر موبائل فون استعمال کر رہیں ہیں اور سیلفیاں اور ویڈیوز بنا رہیں ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے ان کو عدالت نہین بلکہ کراچی کے کسی شاپمگ مال لایا گیا ہے۔ ملزموں ہو کر رویہ ایسا ہے کہ جیسے کوئی تیر مار کر آئے ہوں۔ بات کرنے کا انداز ایسا ہے کہ جیسے کوئی بہت بڑے آدمی ہوں۔ کیا پتہ بڑے آدمی ہو بھی سکتے ہیں، تب ہی تو اتنے وی آئی پی اندار میں بیٹھے ہیں۔ 

ان کے چہروں پر نہ کوئی شرمندگی ہے اور نہ کوئی ڈر خوف۔ کھلم کھلا ڈھٹائی سے جواب دے رہے ہیں۔ ان کے ساتھ موجود ایک پولیس افسر بھی موجود ہیں۔ موبائل فون کا کیمرا دیکھ کر جن کے ہوش اُڑ گئے ہیں۔ ایسے پولیس افسر ہوں گے تو ملزموں کی تو عید ہوجائے گی۔ ملزموں کو یہ وی آئی پی ٹریٹمنٹ کیوں؟ عدالت میں تو عام عوام کو وڈیو بنانے کی اجازت نہیں ہوتی تو یہ ملزم ہوکر کیسے سیلفیاں لے رہیں ہیں۔ آخر پولیس افسر نے ان کو ڈھیل کیوں دی ہوئی ہے؟ آئی جی سندھ کو چاہیئے کہ اس کا نوٹس لیں اور ایسے پولیس افسران کے خلاف کاروائی کریں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us