سندھ کے محکمہ تعلیم کا سب سے بڑا کرپشن اسکینڈل

تعلیم اورصحت وہ دو بد قسمت شعبے ہیں جن کو ہمیشہ نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ جمہوریت ہو یا آمریت ان شعبوں کی ترقی پر کبھی توجہ نہیں دی گئی اور اگر بجٹ میں سب سے کم حصہ رکھنے والے ان شعبوں کو فنڈز کے نام پر کچھ رقم مل بھی جاتی ہے تو وہ کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے۔ تعلیم ہی کو لے لیجیے، اطلاعات کے مطابق سندھ کے وزیرتعلیم سردار علی شاہ کی جانب سے یہ اعتراف کیا گیا کہ اسکولوں کے ایک لاکھ 50 ہزار اساتذہ میں سے ایک لاکھ  35 ہزار اساتذہ سائنس اور ریاضی بلکل نہیں پڑھاسکتے ہیں۔ جبکہ حال ہی میں محکمہ تعلیم سیکریٹریٹ کا کرپشن اسکینڈل بھی سامنے آیا۔

ذرائع کے مطابق یہ محکمہ تعلیم سندھ کا سب سے بڑا اسکینڈل ہے۔ جس میں محکمہ تعلیم سندھ کے سابق سیکریٹری قاضی شاہد نے 2018 سے  2019 کے درمیان مختلف مدوں میں رقم جاری کی۔ محکمہ تعلیم سندھ سیکریٹریٹ نے 1 ارب 5 کروڑ 69 لاکھ خرچ کرڈالے۔ جس میں سے 2 کروڑ 20 لاکھ  کرایے کے نام پر جاری کیے گئے جبکہ محکمہ تعلیم سیکریٹریٹ میں تمام دفاتر اس کے اپنے ہیں کوئی آفس یا دفاتر کرایے پر نہیں۔ اسکے علاوہ وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کو جمع کروائی گئی رپوٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہوائی ٹکٹ اور گاڑیوں میں پیٹرول کے نام پر 1 کروڑ 45 لاکھ ، ٹرانسپورٹ کرایے کی مد میں 42 لاکھ ، ورکشاپ اور سیمینار کے لیے 43 لاکھ 30 ہزار جبکہ 59 کروڑ کے حوالے سے رپوٹ میں کوئی تفصیل  نہیں بتائی گئی کہ انہیں کس مد میں خرچ کیا گیا ہے۔  

اسطرح محکمہ تعلیم کے سابق سیکریٹری قاضی شاہد نے مختلف مدوں میں 1 ارب پانچ کروڑ سے زائد کی رقم ہوا میں اڑادی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us