۵۰ کروڑ روپے کا چونا ۔۔۔!

۵۰ کروڑ روپے کا چونا ۔۔۔!

حال ہی میں ملک کے اندر ہونے والے ایک بہت بڑے گپلے کا انکشاف ہوا ہے!! جس میں کئی اہم لوگ ملوث ہیں ۔ ۵۰ کروڑ روپے کا یہ گھپلہ سوئی سدرن گیس کمپنی میں ہوا ہے ۔سوئی سدرن گیس کمپنی(ایس ایس سی جی) کی جانب سےایک فرانسیسی فرم سےگیس میٹروں کےحصول میں ہونےوالی 50کروڑ روپے کی بےقاعد گیوں کوایک سال سےخفیہ رکھا جا رہا ہے اور تین دہائیوں سے فرانس کے واحد سپلائنگ سورس سےمیٹر حاصل کرنے کے بعد ایک نئے سپلائر کی تلاش کی جارہی ہے۔

اس حوالے سے رابطہ کرنے پر سوئی سدرن گیس کمپنی  کے ترجمان کو کچھ بھی نہیں معلوم تھا۔ انھوں نے بتایا کہ ،”جہاں تک میں جانتا ہوں ۔۔۔ میٹرمینوفیکچرنگ پلانٹ پرخلاف ضابطہ پروکیورمنٹ میں کوئی انکوائری نہیں چل رہی”۔

 

گزشتہ سال کی ایک سرکاری آڈٹ رپورٹ نےکنسلٹنگ فرم اٹرن فرانس سے پروکیورمنٹ کو’’خلاف ضابطہ اورغیرمنصفانہ ”  قرار دیا تھا کیونکہ اس میں کہا گیا کہ سپلائر سے خریداری کی اجازت اُس لائسنس ایگریمنٹ کےتحت نہیں دی گئی تھی جو1992میں طےپایا تھا۔

سال 2016-17 کیلئےسوئی سدرن گیس کمپنی کےاکائونٹس کے آڈٹ کےدوران یہ پایا گیا کہ معتدد پیشکشوں کےبعد کمپنی کی منیجمنٹ نےاٹرن فرانس کوجی-4 گولاس 2000‘گیس میٹرز کے34لاکھ حصوں کا آرڈردیا، جس کی کُل مالیت 42 کروڑ،71لاکھ،89ہزار80روپےبنتی ہے،‘‘بعد میں آڈٹ رپورٹ کہتی ہے،’’ سستی قیمت کیلئےمارکیٹ سرچ کرنی چاہیئےتھی۔‘‘ مزید کہاگیاکہ چونکہ لائسنس صرف فنی معلومات اور کمپنی کےملازمین کی ٹریننگ کیلئےجاری کیا گیا تھا اور معاہدے کے کنٹریکٹ میں سپلائر سے کسی  پیش کش کیلئےکنٹریکٹ کی کوئی شق نہیں ہے،’’ اِٹرن فرانس سے گیس میٹر کے حصوں کیلئےپروکیورمنٹ بےقاعدہ اورغیرمنصفانہ ہے!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us