رام مندر یا بابری مسجد: ایودھیا کا تنازع کیا ہے؟

رام مندر یا بابری مسجد؟ یہ زمین کس کی ہے، کون یہاں کا اصل حقدار ہے؟

اس بات کا تعین تو ہوا نہیں بابری مسجد کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ مسلمانوں اور بھارتی ہندوں کا سالوں سے جس بات پر اختلاف چلا آہ رہا تھا، وہ شاید بھارتی عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے آنے کے بعد اب مزید بڑھ جائے گا۔

بھارتی آرکیولوجیکل سروے انڈین کی اس حوالے سے تحقیق کے مطابق، شمالی بھارت میں ایودعا کے مقام پر واقع بابری مسجد کی بنیادوں اور تعمیرات کا اگر جائزہ لیا جائے، تو یہاں کسی قسم کے ایسے اثرات نہیں پائے جاتے، جس سے یہ کہا جا سکے کہ یہاں مسجد کسی مندر کو توڑ کر بنائی گئی ہے۔ اور نہ ہی ایسے شواہد ملتے ہیں، کہ یہاں اس مسجد سے پہلے کوئی مندر موجود ہو۔

لیکن اس کے باوجود بابری مسجد کا فیصلہ، ہندووٗں کے حق میں سناتے ہوئے بھارتی عدالت عظمیٰ نے مسلمانوں کو ہی متبادل ۵ ایکڑ کی اراضی فراہم کرنے کا حکم دیا۔

بابری مسجد کی تاریخ چودویں صدی سے بھی پرانی بتائی جاتی ہے۔ ایودھیا کے مقام پر واقع اس مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے مسلمانوں کے بادشاہ، مغلوں نے تعمیر کروایا تھا۔ لیکن ہندو مزہب سے تعلق رکھنے والوں کا ماننا ہے کہ یہاں درحقیقت ان کا مندر تعمیر تھا جو کہ ان کے گرو رام کا مندر تھا۔ اس مندر کو توڑ کر یہاں مسجد کی تعمیر کی گئی۔

تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ یہ مقام مسلمانوں اور ہنووں کے لیے یکسان اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں مسجد کے اندر مسلمان عبادت کیا کرتے تھے جبکہ مسجد کے باہر کی زمین پر ہندو۔ دسمبر ۱۹۴۹ تک یہاں باقاعدہ عید کی نمازیں ادا کی جاتی تھیں۔ جس کے بعد یہ مزہبی جگہ بھی پاک بھارت تنازعات کا شکار ہوگئی۔

۱۹۹۲ کو یہ مسجد خبروں کی زینت بنی جب اس پر ہندو انتہا پسندوں نے دھاوا بول کر اس مسجد کو شہید کیا تھا۔ اس کے بعد بھارت کے کئی بڑے شہروں میں ہندو مسلمان فسادات نے جنم لیا جس کے نتیجے میں دو ہزار سے زاہد مسلمان قتل ہوئے۔

پھر اس کے بعد اس کا مقدمہ ایک عدالت سے ہوتا ہوا دوسری اور پھر ادھر ادھر گردش کرتا رہا جبکہ مسجد کی حفاظت اور ملکیت پہلے وفاقی حکومت اور پھر سپریم کورٹ کر حوالے کر دی گئی۔

لیکن اب، ایسے موقعے پر، جب پاکستان بھارت میں موجود سکھ افراد کی خاطر کرتارپور کوریڈور کھول کر مذہبی ہم آہنگی کی مثال قائم کر رہا ہے، وہاں بھارت کی جانب سے ایسے اقدام کی شدید مزمت کی جاتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us