کلو نہیں، شمائلہ نام ہے

تمہارے رشتے نہیں آئیں گے، وہ کیوں بھابھی؟ شمائلہ (نام تبدیل کیا گیا ہے) نے اپنی بھابھی سے سوال کیا، شمائلہ کیوں کہ تم جیسی معمولی شکل و صورت والی لڑکیوں کو کوئی نہیں پوچھتا اور پھر تمہارا رنگ بھی گورا نہیں۔ تم تو کالی ہو۔

یہ باتیں میرے دل کو ایسے کاٹ رہیں تھیں جیسے کوئی میرے دل پر آرے چلارہا ہو۔ یہ اور اس طرح کی کئی باتیں مجھے تین وقت کے کھانے سے بھی زیادہ بار ملتی تھیں۔ بھائی بھابھی کی شادی کو کچھ ماہ ہی ہوئے تھے لیکن بھابھی کی کڑوی باتوں سے یوں لگتا تھا جیسے دس بارہ سال گزرچکے ہیں۔

بھابھی کے اس رویے کے ذمہ دار کسی حد تک میرے گھر والے بھی تھے۔ شروع کے دنوں میں ان کا رویہ بلکل ٹھیک تھا مگر جب انہوں نے ہر وقت مجھے اپنے گھر والوں کے ہاتھوں کبھی کالے رنگ پر، کبھی چھوٹے قد پر اور کبھی کم تعلیم پرذلیل ہوتے دیکھا تو بلآخر وہ بھی اسی رنگ میں رنگ گئیں۔

شادی کی عمر ہونے کی وجہ سے آئے دن مجھے لوگ دیکھنے کے لیے گھر آجاتے۔ مجھے اتنی اجازت نہیں تھی اور نہ میری اتنی حیثیت تھی کہ مجھ سے میری مرضی پوچھی جاتی۔ لڑکا جیسا بھی ہوتا میرے گھر والوں کے لیے وہ شہزادہ گلفام ہی ہوتا۔ بس کسی بھی طرح انہیں اپنا بوجھ اتارنا تھا۔  یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا یہاں تک ایک کے بعد ایک انکار پر میرے گھر والوں کی بھی ہمت جواب دے گئی۔ ینوبت یہاں تک پہنچ چکی تھی کہ وہ مجھے کسی بھی راہ چلتے سے بیاہ دینے سے بھی نہ رکتے۔

ہر آنے والے رشتے کی انکار کی ہمیشہ ایک ہی وجہ  ہوتی،  لڑکی کالی ہے۔

گورا رنگ نہ ہو تو آپ اس معاشرے میں ایلین سمجھے جاتے ہیں جبکہ روایات کی روشنی میں آپ کسی قابل ہی نہیں رہتے۔  اگر خوش قسمتی سے آپکے ماں باپ پیار کرنے والے بھی ہوں تو ہر تیسرا شخص آپکو یہ یقین دلانے میں لگا رہتا ہے کہ آپ میں اللہ نے ایسی کوئی کمی رکھی ہے جسے مکمل نہیں کیا جاسکتا۔

چھ سات سال یہی سلسلہ چلتا رہا اور پھر ایک فیملی نے اس شرط پر اپنے بیٹے کا رشتہ پکا کرنے کی حامی بھری کہ بدلے میں میرا چھوٹا بھائی ان کی سب سے بڑی بہن سے شادی کرے گا۔ میرے گھر والوں نے کچھ نہیں سوچا۔ بس فورا ہاں کردی۔ اور کچھ ماہ بعد وٹہ سٹھہ کی شادی ہوگئی۔

میں اپنے سسرال رخصت ہوکر گئی اور میری نند رخصت ہوکر میرے گھر آگئی۔ میرے شوہر جنہوں نے اپنی بہن کے لیے قربانی دے کر مجھ سے شادی کی تھی ہمیشہ مجھ سے اکھڑے اکھڑے رہتے۔ ٹھیک سے بات نہیں کرتے۔ میں انہیں پسند نہیں تھی۔ لیکن کیونکہ میں ایک عورت تھی اس لیے ہمارے درمیان میاں بیوی کا تعلق قائم ہوگیا۔ ہمارے یہاں شادی کے ایک سال بعد ہی پہلی بیٹی کی پیدائش ہوگئی۔ بد قسمتی سے اس کا رنگ بھی سانولہ تھا۔ لیبر روم میں جب مجھے پہلی بار بیٹی کو دیکھایا گیا تو میں رونے لگی یہ سوچ کر نہیں کہ اللہ نے مجھے اپنی ایک ایسی صفت سے نوازا جو اس کے علاوہ کسی کے پاس نہیں، بلکہ میں یہ سوچ رہی تھی کہ اللہ تونے اسے کیوں پیدا کیا؟ مجھے بیٹا دے دیتا تاکہ مجھے اس کے لیے پریشان نہ ہونا پڑتا۔ یہ تو بلکل میری ہی طرح ہے، کاش تو اسے میرے وجود میں ہی ختم کردیتا تاکہ اسے دنیا کی وہ سب تلخیاں برداشت نہیں کرنی پڑتیں جو میں نے برداشت کیں۔ میں اسے ہاتھوں میں لیے یہ سوچ ہی رہی تھی کہ اچانک اس کے ننھے ہاتھ میرے چہرے سے ٹکرائے، اس ننھے ہاتھ نے مجھے سوچوں کے ان خونخوار جنگلوں سے کھینچ کر باہر نکال لیا اور پھر اگلے ہی لمحے میرے دل ودماغ میں خیال تھا کہ شکر ہے اللہ کا اس نے مجھے اولاد کی نعمت دی، میں نے اس دن سوچ لیا کہ میں اپنی بیٹی کو ان رویوں کا شکار کبھی نہیں ہونے دوں گی جن سے میں گزری۔ میں نے سنا تھا کہ عورت جب ماں بن جائے تو اس میں اللہ الگ سی طاقت عطا کردیتا ہے اور وہ طاقت مجھے اس دن کے بعد مجھے اپنے اندر محسوس ہونا شروع ہوئی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us