سٹی ہسپتال میں بچوں کی جانوں سے کھلواڑ، جعلی ڈاکٹرز اور کرپشن

سندھ کے ڈسٹرکٹ خیرپور کے ہسپتال شہریوں کی لئے ایک آزمائش، مریضوں کی جانوں سے گھناؤنا کھلواڑ۔ جعلی ڈاکٹرز کی موجودگی… 

خیرپور شہر میں قائم سٹی اسپتال اس وقت تباہی سے دو چار ہے اور اس تباہی، لوٹ مار اور کرپشن سے صرف مریض متاثر ہو رہے ہیں۔ سٹی ہسپتال میں (این آئی سی یو) بچوں کے وارڈ میں چھ سال سے ایک ایسے شخص کو رکھا گیا ہے جس کی تعلیم صرف دسویں جماعت ہے۔ اس شخص نے میٹرک بھی آرٹس میں کیا ہوا ہے۔ اس کے پاس نہ کوئی میڈیکل سرٹیفیکٹ ہے اور نہ ہی کوئی ڈگری۔ ذرائع کے مطابق یہ شخص مریضوں سے وہاں ڈونیشن کے نام پر پیسے بھی لیتا ہے اور وہ اپنی جیپ میں ڈالتا ہے۔ ہر مریض سے 150 سے لے کر 500 روپے لیتا ہے۔ یہ شخص خود کو ڈاکٹر بھی کہلواتا ہے۔ ایسے ان پڑھ ایجنٹوں کی وجہ سے مریض مر جاتے ہیں۔

سٹی ہسپتال میں بچوں کے لئے صرف ١٠٠ بیڈ ہیں، ہر بیڈ پر تین سے چار بچوں کو لٹایا جاتا ہے۔ جس سے وہ کافی پریشان ہوتے ہیں۔ اس اسپتال میں صرف تین بچوں جتنے ڈاکٹرز مقرر کئے گئے ہیں، جو صرف چکر لگانے ہسپتال آتے ہیں اور واپس پرائیوٹ ہسپالوں میں چلے جاتے ہیں۔سٹی ہسپتال میں مریضوں کے لئے شعبّہ ایمرجنسی قاعم نہیں کیا گیا صرف ایمرجنسی کا بورڈ لگایا گیا ہے۔ نام نہاد ایمرجنسی میں صرف چپراسی بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہسپتال میں صفائی کا نظام سول ہسپتال جیسا ہے ہر جگہ گندگی ہے۔ ہسپتال میں پینے کے لئے پانی تک موجود نہیں۔ مریض اپنا پانی باہر سے خرید کر لاتے ہیں۔

دوسری جانب ہسپتال میں موجود برسیں ڈاکٹرز کے لئے دوائیں چراتی ہیں اور ڈاکٹرز وہ دوائیں اپنی کلینک لے کر جاتے ہیں۔ ہسپتال کے ملازم باہر موجود میڈیکل اسٹور والوں کے ساتھ مل کر مریضوں کو لوٹتے ہیں۔ گیسٹرو کے موسم میں سٹی ہسپتال میں صرف ایک ماہ میں ١٠٠ بچے جاں بحق ہوئے جن کے نام رجسٹر میں ریکاڈ نہیں کئے گئے۔ گردن توڑ بخار اور جھٹکوں کی بیماری کے وارڈ سالوں سے بند پڑے ہیں جو ایک بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

ہسپتال میں نہ مریضوں کے کھانے پینے کا انتطام ہے، نہ ہی بیٹھنے اور سونے کا۔ سٹی ہسپتال خیرپور میں ہر ماہ ٤٠ سے زائد بچے فوت ہوتے ہیں جو کہ ریکاڈ میں موجود ہے۔ ہسپتال کے ڈاکٹرز مریضوں کا معائنہ سفارش پر کرتے ہیں، وہ جان پہچان والے مریضوں کو پہلے دیکھتے ہیں، جو مریض دور سے آتے ہیں وہ وہاں ذلیل ہوتے ہیں، کیونکہ ہسپتال میں ان کے بیٹھنے کا بھی انتظام نہیں۔ سابق ایڈیشنل ہیلتھ سیکٹری کا نوازا بھی این آئی سی یو جو کہ بچوں کا وارڈ ہے، اس میں فوت ہوگیا۔ وجہ این آئی سی یو میں موجود پرائیوٹ ایجنٹ تھا۔ این آئی سی یو میں موجود اینجنٹ اتنے طاقتور ہیں کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ پاتا۔

سندھ میں ہسپتالوں کا نظام ہسپتالوں کے بام پر ایک دھبا ہیں، جو غریب عوام کا خون چوستے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں انسانیت کا قتل کیا جاتا ہے۔ ان ہسپتالوں میں بے حس قاتل بیٹھے ہیں ان کا انسان اور انسانیت سے کوئی واسطہ نہیں، وہ اپنی لاپروائی سے مریضوں کی جانیں لے لیتے ہیں۔ معصوم بچے ہسپتال میں علاج کرانے جاتے ہیں مگر وہاں سے جاہل ان پڑھ عملے کی وجہ سے ان کی لاشیں نکلتی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us