چین مسلمانوں کا دوست یا دشمن؟

چین میں مسلمانوں کے خلاف جاری وحشیانہ تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔چینی حکومت نے ایغورز مسلمانوں کو ایک جیل نما تعلیمی کیمپز میں بند کیا ہے، جس میں وہ مسلمانوں کو دین سے دور کرنے کے لئے وحشیانہ تشدد کر رہیں ہیں۔ چین کے شہر سنکیانگ  میں رہنے والے زیادہ آبادی چینی مسلمانوں کی ہے، جن کا تعلق سینٹرل ایشیا سے ہے۔ سنکیانگ میں رہنے والے ایغور نسل سے تعلق رکھنے والے مسلمان اس وقت چین کے ظلم اور بربریت کا شکار ہیں۔

ایک چینی خاتون جس کو چین میں ایک ری ایجوکیشن کیمپ میں قید کیا گیا تھا، انہوں نے ایک غیر ملکی میڈیا چینل کو بتایا کہ وہ اس کیمپ سے باہر تو نکل آئی ہے، مگر جو تشدد اس پر کیا گیا ہے وہ کبھی بھی بھلایا نہیں جا سکتا۔ چینی خاتون نے مزید بتایا کہ وہاں 14 سال کی لڑکیوں کو کیمپز میں بند جاتا ہے اور جب وہ واپس آتی تھیں تو ان کے جسم زخموں سے چھنی چھنی ہوتے تھے، جسم پر زخموں کے نشان ہوتے تھے۔ چینی خاتون نے کہا کہ چینی حکومت نے اس کی زندگی تباہ کردی ہے۔

ایک چینی باشندے نے جو اپنے آپ کو بچانے کے خاطر چین چھوڑ چکا تھا، میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چینی حکومت کو ان پر شق ہیں، وہ ان کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہیں۔ وہ ان کو قید کرکے ان سے سوالات کرتے، پھر ان پر وحشیانہ تشدد کرتے ہیں۔ وہ ان کو کہتے ہیں کہ ہم کچھ غلط نہیں کر رہے بلکہ ان کو تعلیم دے رہے ہیں اور سکھا رہے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے وہ ہمارا برین واش کر رہے ہیں۔ وہ ہمیں ہمارے مزہب اور کلچر سے دور کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری جانب چین ان تمام الزامات سے انکار کر رہا ہے۔ چین کا یہ موقف ہے کہ وہ ان کو جیل جیسے کیمپ میں تعلیم دے رہے ہیں۔ 

اویغوروں سے بدسلوکی کے باعث امریکہ نے 28 چینی کمپنیاں بلیک لسٹ کردی ہیں۔ امریکہ اویغوروں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کر رہا ہے۔ امریکہ نے کہا ہے کہ وہ چین کے صوبے سنکیانگ میں مسلمانوں سے مبینہ بدسلوکی میں ملوث چینی حکام پر ویزے کی پابندیاں عائد کرے گا۔ ویزے پر پابندی کا اطلاق چینی حکومت اور کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداران کے علاوہ ان کے اہلخانہ پر بھی ہو گا۔ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ چینی حکومت ’انتہائی جابرانہ مہم‘ چلاتی رہی ہے جبکہ چین نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us