خشک میوہ جات کا ٹھیلہ یا کروڑوں کی انویسمنٹ

سردیاں آتے ہی ہر طرف شاہراہوں، گلی محلوں میں ٹن ٹن کی گھنٹیاں بجاتے خشک میوہ جات کے ٹھیلے نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ جن پر انواع و اقسام کے میوے (اخروٹ بادام ، انجیر، مونگ پھلیا اور چلغوزے موجود ہوتے ہیں۔ سردی کی خشک ہوا میں ہر شخص کا دل چاہتا ہے کہ وہ یہ تمام میوہ جات کھاسکے مگر جیب اجازت نہیں دیتی کیونکہ ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہے۔

ان کے قیمتی ہونے کا اندازہ خریدار کو تو ہوتا ہی مگر اب خشک میوہ جات کے ٹھیلے چوروں کے نشانے پر ہیں۔  جنوبی وزیرستان کے وانا بائی پا روڈ پر حسن گودام سے ایک درجن کے قریب مسلح نقاب پوش نے بندوق کی نوک پر سوا کروڑ مالیت کے چلغوزہ کی 23 بوریاں اٹھا کے لے گئے۔

تفصیلات کے مطابق مسلح نقاب پوش رات بارہ بجے کے قریب گودام کو پھلانگ کر اندر داخل ہوئے اور وہاں موجود چوکیدار سمیت دوسرے افراد پر اسلحہ تان کر خاموش کردیا۔ گودام میں موجود لٹنے والے افراد نے بتایا کہ ان نقاب پوش مسلح افراد نے ان سے نقدی اور موبائل فونز چھین لیے اور ایک سفید رنگ کی گاڑی میں چلغوزوں کی باریاں ڈال کر با آسانی فرار ہوگئے۔ مارکیٹ میں چلغوزہ کی موجودہ قیمت کے مطابق لوٹی ہوئی چلغوزوں کی بوریوں کی مالیت تقریبا 1 کروڑ 20 لاکھ بنتی ہے۔ چلغوزہ کے مالک نامبوت خان اور ان کے دیگر ساتھیوں نے تھانہ وانا میں نا معلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرادی۔ پولیس ڈاکوؤں کی تلاش کر رہی ہے۔

تاجر یونین کے صدر خان محمد نے کہا کہ اگر حکومت نے ڈاکوؤں کو جلد نہ پکڑا تو تاجر برادری وانا بائی پاس پر دھرنا دے کر اسے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردے گی۔ اور اپنے گوداموں کو بھی تالے لگا دے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us