کہیں دیر نہ ہوجائے

بچوں کو اسکول بھیجنا ہے، قرآن کی تعلیم دلوانی ہے، خاندان میں  بھی لے کر آنا جانا ہے، میں بچوں کے ساتھ ہر وقت سائے کی طرح کیسے رہوں گی؟ گھر میں بند کر کے تو نہیں رکھ سکتی۔  آخر انہیں کیسے محفوظ کیا جاسکتا ہے معاشرے میں موجود ان درندوں سے جو کہیں بھی کبھی بھی انہیں نوچ ڈالنے کے لیے منہ کھولے بیٹھے ہیں؟ یہ اور اسطرح کے کئی سوالات آج  ہر ماں کے ذہن میں موجود ہیں۔ آئے دن بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات اچانک رونما نہیں ہوتے۔ ایک اندازے کے مطابق ان واقعات میں ملوث زیادہ ترلوگ ان کے قریبی یا جاننے والے ہوتے ہیں۔

 ماں باپ کو  آخر کیوں نہیں پتہ چل پاتا کہ انکا بچہ کس کی گود میں اور کس کے گھر میں محفوظ نہیں۔ اور حیرت ہوتی ہے اس بات پر کہ ہر دوسرے دن رونما ہونے والے اسطرح کے واقعات  کے بارے میں جاننے کے باوجود کچھ والدین ایسے بھی ہیں جو ان واقعات کی سنگینی کو سمجھ کر آج بھی نہیں سمجھ سکے ہیں۔

حال ہی میں اپنی امی کے ساتھ  میرا مارکیٹ جانا ہوا۔ میں اور امی شاپنگ میں مصروف تھے۔ اتنے میں مجھے اپنے پڑوسیوں کی 5 سالہ بیٹی نظر آئی۔ جسے دیکھ کر میرے چہرے پر فورا مسکراہٹ آگئی لیکن اگلے ہی لمحے اس مسکراہٹ کی جگہ پریشانی اور فکر نمایاں تھی۔ امی گھر کا سودا سلف لینے میں مصروف تھیں۔ اچانک انہوں نے میرے چہرے کی طرف دیکھا تو پوچھا کیا ہوا؟ اتنی پریشانی کیوں ہے تمہارے چہرے پر؟ میں نے کہا امی ملائکہ کی وجہ سے۔ امی نے کہا بیٹا ملائکہ کی پریشانی تمہیں کیوں ہے۔ وہ تو اپنے گھر پر ہے،  اپنے ماں باپ کے ساتھ ۔ پھر میں نے امی کو دیکھایا۔ امی بھی ملائکہ کودیکھ کر پریشان ہوگئیں۔ کیونکہ ملائکہ اکیلی آئی تھی وہ بھی اپنے گھر کے دو ملازموں کے ساتھ ۔ امی اور میں حیران تھے کہ کیسے پھول جیسی بچی کو اکیلے ڈرائیور اورملازم کے ساتھ بھیج دیا۔ ہاں مانا یہ انکے پرانے ملازم ہیں لیکن کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ بچوں اور بچیوں کے معاملے تو اندھا اعتماد بلکل ٹھیک نہیں۔

ہمارے یہاں بچوں کے کھانے پینے اور کپڑوں کی تو بہت فکر کی جاتی ہے مگر بچوں کو یہ بلکل بتایا اور سمجھایا نہیں جاتا کہ آپ کو کس قدر لوگوں سے فاصلہ رکھ کر بات کرنی چاہیے۔ ان کے ساتھ دوستی، اٹھنا، بیٹھنا  کس حد تک ہونا چاہیے۔ والدین کو بھی یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ خود اپنے اور بچوں کے درمیان بات چیت کا رشتہ ضرور رکھیں تاکہ بچے باہر دوست ڈھونڈھنے کے بجائے اور کسی جانے اور انجانے لوگوں کے ذریعے پہنچنے والے کسی بھی نقصان سے بچ سکے۔  

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us