بچے کے ساتھ جانوروں والا سلوک، بچہ مدرسے سے آزاد

 

والدین اتنے ظالم کیسے ہوجاتے ہیں کہ وہ اپنے ہی بچوں کے ساتھ جانوروں والا سلوک کرتے ہیں اور خود ان کو اپنے ہاتھوں سے درندون کے حوالے کر دیتے ہیں۔ بچے کی خوائش ، بچے کی مرضی سے ان کو کوئی غرض نہیں۔

ماں باپ بچے تو پیدا کر لیتے ہیں پر ان کو بچوں کی پرورش کرنا نہیں آتا۔ وہ بچے کو بچہ نہیں سمجھتے ان کے ذہن اور ان کی نظر سے دنیا کو نہیں دیکھتے۔ ان کی خوائشوں کو کچل کر ان پر اپنی مرضی مسلط کرتے ہیں۔ یہ سب کرنے میں وہ کبھی کبھار حد پار کر جاتے ہیں۔

پنجاب کے شہر وہاڑی میں ایک چھ سالہ معصوم بچے کو جو کہ چھ دن سے زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔ اس کو چھ دن تک جانوروں کی طرح زنجیروں سے باندھ کر رکھا گیا اور اس کے ساتھ ہونے والے اس ظلم میں اس کا سگا باپ بھی شامل تھا۔

پولیس نے اطلاح ملنے پر بچے کو آزاد کروایا۔ ذرائع کے مطابق پولیس کو اس بات کی اطلاح اندونے ذرائع سے ملی جس پر پولیس نے مدرسے پر چھاپا مارا۔ پولیس نے زنجیروں میں جکڑے بچے کو آزاد کروایا اور مدرسے کے انچارج اور بچے کے والد کو حراست میں لیا۔ مدرسے کے انچارج کا کہنا تھا کہ بچے کو اس کے والد کی رضامندی سے مدرسے میں رکھا گیا تھا اور زنجیروں میں جکڑا گیا تھا کیونکہ وہ مدرسے میں تعلیم حاصل نہیں کرنا چاہتا تھا اور بھاگ جاتا تھا اور ایک گورنمنٹ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کا شوق رکھتا تھا۔

پولیس نے والد اور مدرسے کے انچارج کے خلاف سیکشن 342 کے تحت مقدمہ درج کیا۔ چھ سالہ معصوم بچے کا کہنا ہے کہ اس کو چھ دن اس مدرسے میں زنجیروں میں جکڑ کے رکھا گیا۔  یہ افسوس کا مقام ہے کہ والدین اپنی بات منوانے کے خاطر اس حد تک گر جاتے ہیں کہ وہ بچے کو بچہ نہیں سمجھتے اپنی مرضی پوری کرنے کے خاظر ان کے ساتھ جانوروں والا سلوک کرتے ہیں۔ اس ملک میں بچوں کے ساتھ ہونے والی بد سلوکی اور ظلم کے خلاف جب تک ایکشن نہیں ہوگا تب تک ایسا ہوتا رہے گا۔ بچے مدرسوں میں ، اسکولوں میں اور ٹیوشن سینٹرز میں تشدد کا شکار ہوتے رہیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us