عمارت گرنے کا ذمہ دار کون؟

لیاقت آباد میں بھی شہر کے دوسرے علاقوں کی طرح بلند عمارتوں کی تعمیر جاری ہے۔ بلڈرز کسی بھی گھر کی زمین کو کوڑیوں کے مول خرید کر اس پر غیر قانونی 10 یا 12 منزلہ عمارت کھڑی کردیتے ہیں۔ تعمیر میں کم پیسہ لگانے کی غرض سے دو نمبر کام کروا کر ایک ایک منزل اور فلیٹ کو کروڑوں روپے میں فروخت کرتے ہیں۔ انکے پاس رہائشی علاقوں میں بلند عمارتیں تعمیر کرنے کا اجازت نامہ کہاں سے آتا ہے؟ سندھ بلڈنگ کنٹرول ؟ اتھارٹی اور اس سے متعلقہ ادارے انکے خلاف کوئی ایکشن کیوں نہیں لیتے ؟ کیااسکی وجہ ان اداروں میں ہونے والی کرپشن ہے؟ اس قدر ناقص مٹیریل لگا کر بنائی گئی عمارت کئی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us