بھتہ خوری پھر سر اٹھانے لگی

بھتہ نہ دینے پر سیکڑوں انسانوں کو جلانے والے آج تک سزا نہ پاسکے، ہزاروں لوگوں ک قاتل آج بھی فرار ہیں، کراچی برا ہی بد قسمت شہر ہے اس شہر سے لاکھوں کمانے والے اسی کو لوٹتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:متحدہ کے کارکنان کو کے الیکٹرک کا سہارا

شہری تو لٹتے رہتے ہیں, مرتے رہتے ہیں لیکن اب شہریوں کے ساتھ ساتھ سرکاری آفیسرز کو بھی جان کے لالے پڑ چکے ہیں۔

کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد کے بلاک اے کے رہائشی ایکسائز انسپکٹر سید منہاج علی کے گھر نا معلوم ملزمان دس لاکھ روپے کی پرچی پھینک کر فرار ہوگئے۔ اس پرچی کے ساتھ ایک گولی بھی موجود تھی۔ منہاج علی کے مطابق اس سے پہلے بھی 17 ستمبر کو ایک اور دس لاکھ روپے بھتے کی پرچی بھیجی گئی تھی۔ جس کی رپوٹ ناظم آباد تھانے میں جمع کرائی تھی۔ اور آج ایک بار پھر بھتہ خور بھتے کی اور پرچی گولی کے ساتھ پھینک کر گئے ہیں۔ اس پرچی پر لکھا ہے ” بھتہ دو ورنہ جان سے مار دینگے”

منہاج علی نے مزید بتایا کہ محکمہ ایکسائز میں انسپیکٹر ہونے کے باوجود جب میں پہلی بھتے کی پرچی ملنے پر پولیس اسٹیشن گیا اور بھتہ خوروں کے خلاف رپوٹ درج کرانا چاہی تو پولیس نے کہا کہ جب بھتہ خوروں کی جانب سے کال موصول ہوگی تو مقدمہ درج کرینگے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس والوں نے مقدمہ درج کرنے کے بجائے مجھے مشورہ دیا کہ گھر کے باہر مہنگے کیمرے لگاؤ تاکہ پرچی رکھنے والے کی شناخت ہوسکے.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us