بلوچ انجینیئرز پھر نظرانداز

بلوچستان انجینیئرنگ ایسو سی ایشن کی ہڑتال 15 جولائی سے جاری ہے۔ مگر حکومتی نمائندوں کی ہٹ دھرمی برقرارہے۔

مظاہرین نے کہا کہ ہم نے بلوچستان کے تمام انجینیئرز کی گرینڈ الائنس کے لیے قلم چھوڑ ہڑتال شروع کی ہے۔ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوں گے ہم یوں ہی احتجاج کو جاری رکھیں گے۔

احتجاج کرنے والے انجینیئرز نے کہا کہ آل بلوچستان انجینیئرز کے الاونسز منظور کیے جائیں جسطرح تمام صوبوں کے انجینیئرز کو دیئے جاتے ہیں، بلوچستان میں جو بھی بے روزگار انجینیئرز ہیں انہیں روزگار فراہم کیا جائے، بلوچستان کے تمام انجینیئرز کے ٹیکنیکل الاونسز منظور کیے جائیں اور انجینیئرز سروس اسٹرکچر کی جلد منظوری دی جائے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ وہ روزانہ صبع دس بجے سے شام چار بجے تک کیمپ میں ہوں گے۔ انہوں نے اپنے مطابات پرمشتمل کئی پلے کارڈ بھی آویزاں کیے ہوئے تھے۔

انجینئرز کی ہڑتال اور انکے مطالبات کو جائز قرار دیتے ہوئے بلوچستان نیشنل عوامی پارٹی (مینگل) کے ثناء اللہ بلوچ نے ان سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us