کیا”شیر پنجاب” کو پنجرے میں ڈالنے والے خود اپنے ہی جال میں پھنس گئے؟

گو نواز گو! یہ نعرہ پاکستانی سیاست میں اب بھی اتنا ہی مقبول اور اہمیت کا حامل ہے جتنا یہ الیکشن ۲۰۱۸ میں تھا۔ لیکن عجب بات تو یہ ہے کہ نعرہ تو سالہ سال وہی رہا، لیکن  کہنے والے اور ان کا کہنے کا مقصد اب الٹ چکا ہے۔

پہلے یہ نعرہ جبر میں استعمال کیا جاتا رہا اور اب اس کو کہنے والے یہ ایک الجھن میں ‘التجائی’ لہجے میں کہہ رہے ہیں، کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ نواز شریف اب واقعی ہی میں جائیں۔ جیل سے باہر۔ عدالت سے باہر۔ پاکستان سے باہر بلکہ خصوصا ‘پنجاب’ سے باہر!

وہ جو نواز شریف کو اقتدار سے نیچے، جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے کر آئے تھے، شاید وہ اس وقت نہیں جانتے تھے کہ جس رعایا کہ وہ شاہ بنے بیٹھے ہیں، اس رعایا کی دلی وابستگی درحقیقت اتنی ہی اُن کے ساتھ ہے جتنی نواز شریف کی۔ جتنا حق وہ اس پر اپنا جتاتے ہیں، اتنا ہی نواز شریف بھی ان کے دلوں میں جگہ رکھتے ہیں۔ بلکہ کئی پہلووٗں میں اس کا توازن اوٗنچ نیچ بھی کرتا رہتا ہے۔

تو ایسے موقعے پر نواز شریف کے ساتھ کچھ برا ہونا، وہ بھی تب جب ایسا ہونے کا اندیشہ موجود ہے بلکہ اس کی توقع بھی کی جا رہی ہو، اس صورتحال میں نواز شریف کو ملک میں رہنے دینا، "اپنی” حراست میں رکھنا۔۔۔ اس کا مطلب تو سیدھا سادھا اپنی ہی رعایا کو اپنے خلاف کرنا ہے۔ اور یہ وہ ہر گز برداشت نہیں کرسکتے۔ ملک کے دیگر تین صوبوں میں جو ریاستی جبر سالوں سے برقرار رہا ہے، وہ پنجاب میں قائم نہیں ہوسکتا کیونکہ یہی وہ صوبہ باقی رہا ہے جس پر کنٹرول کی جنگ میں باقی سب صوبوں کو تباہ کیا گیا۔

تو ایسے میں قدم کچھ یوں لینا تھا کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے؟ تو ظاہر سی ہی بات ہے، کہ اس دفعہ بھی بندوق انہوں نے عمران خان کہ کندھے پہ ہی رکھ کر چلانی تھی۔ اور حکومت کا کیا ہے، بھلے ایک محکمے سے فائلیں دوسرے محکمے میں بھیجیں۔۔۔ باتیں یہاں کی وہاں اور وہاں کی کہیں اور کریں لیکن آخر کار ہونا تو وہی تھا جس کا حکم ملا تھا۔

اب نواز شریف واپس آئیں یا نہ آئیں، عمران خان کی حکومت رہے یا نہ رہے، مولانہ دھرنا کہیں بھی دیں کسی کو کیا، کیوں کہ ملکی سیاست کا کاروان تو انہیں کے ہاتھ میں ہے!

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us