بھارت کا ظالم چہرہ بے نقاب!

۹ نومبر ۲۰۱۹۔۔۔ آج کا دن پاکستان اور بھارت دونوں کی مذہبی تاریخ کا اہم ترین دن ثابت ہوا ہے۔

ایک طرف جہاں پاکستان کی جانب سے مذہبی ہم آہنگی، محبت اور بھائی چارے کا درس اور پیغام عام کیا جارہا ہے، وہیں دوسری جانب سیکولر بھارت کے سپریم کورٹ نے ایسا فیصلہ سنایا کہ اُس کے اندر بچے کچے سیکولزرم کے جو اثرات باقی تھے، آج وہ بھی ختم ہوگئے۔

پاکستان نے سکھ یاتریوں کے لیے کرتار پور کوریڈور کا افتتاح کیا، اور بھارت نے بابری مسجد کا فیصلہ مسلمانوں کے جزبات اور حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے، ایک بار پھر ہندوٗں کے حق میں ہی سنایا۔

بھارت میں واقع بابری مسجد، پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے عزیم مذہبی عقیدت اور اہمیت کی حامل ہے۔ مسلمان جہاں اس بات پر بضد ہیں کہ اس مسجد کا قیام مغلوں کے دور میں ہوا تھا جبکہ اس مسجد کی بھی انہی کے پاس ہی تھی۔ وہیں ہندو مذہب کے ماننے والوں کا یہ ماننا ہے کہ اس مقام پر ان کے دیوتا کا جنم ہوا تھا اور مسجد کی تعمیر سے پہلے یہاں مندر ہوا کرتا تھا۔

عدالتی فیصلہ ان دعوں اور اقراروں سے بڑھ کر سائنسی اور تاریخی حقیقت کو جان کر کرنا چاہیے تھا، لیکن اس کیس کا فیصلہ سنانے والے پانچ رکنی بینچ نے اس کو مسترد کرتے ہوئے بابری مسجد کی زمین کو ہندووٗں مندر کی تعمیر کے لیے دی جانی چاہیے، جبکہ مسلمانوں کو اس کے عوض، اسی علاقے ایودعا میں زمین دی جائے گی۔

بھارت کی ماہر آرکیولوجی ڈیپارٹمنٹ آرکیولوجیکل سروے انڈیا کے مطابق بابری مسجد کی تعمیر کی جگہ ایسے کوئی شواہد نہیں پائے گئے جس سے اس بات کی تصدیق ہو کہ یہاں کوئی مندر تھا اور نہ ہی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے یہاں مندر کو گرا کر مسجد تعمیر کی گئی ہے۔

لیکن پھر بھی اس متنازع زمین کا فیصلہ بھارت اور ہندووٗں کے حق میں ہی کیا گیا ہے۔

پاکستان جہاں اپنے مذہبی اقلیتوں کا خیال رکھ رہا ہے، وہیں بھارت، ایک سیکولر ملک کا دعویٰ کرتے ہوئے ایسے اوچے ہتگنڈے استعمال کر رہا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دونوں بار اقتدار میں آنے سے پہلے بابری مسجد کے مقام پر مندر تعمیر کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کی وجہ سے بھارتی وزیر اعظم کو الیکشن میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے اتنی پزیرائی ملی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us