بدکار کہنے والے اب کہاں گئے!

بدکار عورت کا الزام لگانے والے استاد کے منہ پر پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد خاموشی کے تالے۔۔۔

لاڑکانہ کےہاسٹل میں میڈیکل کے آخری سال کی طلبہ نمرتا کماری جس کی لاش ہاسٹل سے ملی تھی، اس کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سامنے آچکی ہے۔ جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نمرتا کے ساتھ زیادتی کرکے اس سے قتل کر دیا گیا تھا۔ ابتداء میں جب یہ واقع سامنے آیا تو اساتذہ کی جانب سے کہا جا رہا تھا کہ یہ خودکشی ہے۔ اور میڈیکل رپورٹ سے بھی یہی بات واضع ہوئی تھی۔ مگر پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس کی موت سانس نہ آنے کی وجہ سے ہوئی۔ نمرتا کی گردن پر زخموں کے نشان بھی تھی۔ زخموں کے نشان اس بات کی طرف نشاندہی کر رہے کہ مقتول کی گردن پر رسی باندھ کر اس کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔

اس واقعے کے بعد بی بی آصفہ ڈینٹل کالج کے پروفیسرز نے آصفہ بی بی پر بہت ہی گھناؤنے الزامات لگانے۔ یہ ویڈیو ان کے الزامات کا ثنوط ہے۔ انہوں نے کہا کہ نمرتا ایک اچھے کردار کی لڑکی نہیں تھی۔ چار سالوں میں اس کی صرف لڑکوں کے ساتھ دوستی رہی۔ وہ اپنے مرد دوست کے گھر جا کر چار چار راتیں گزارتی تھی ، اور وہ اس لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی۔ مگر وہ لڑکا اس سے شادی نہیں کرنا چاہ رہا تھا اور لڑکی تو مسلمان ہو نے کے لئے بھی تیار تھی۔ یہ ایک بیمار ذہنیت کی من گھڑی کہانی تھی، جس سے وہ نمرتا کی کردار کشی کر رہے تھے۔ اب پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد، تمام اساتذہ کے منہ پر خاموشی کے تالے لگ گئے ہیں۔ یہ ہاسٹل انتظامیہ کے لئے سوالیہ نشان ہے کہ نمرتا کے کمرے میں کوئی کیسے داخل ہوا اور ہاسٹل کے کمرے میں یہ سب کیسے ہوا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us