پاکستان میں موجود مودی نما درندوں کے گریبان کون پکڑے گا؟

 

صوبہ پنجاب کے علاقے رحیم یار خان میں اے ٹی ایم کی چوری میں گرفتار کئے جانے والے آدمی صلاح الدین کو پنجاب پولیس نے اپنی حراست میں مار مار کر قتل کردیا۔ اگر وہ چور بھی تھا تو کیا اس ملک میں کوئی قانون نہیں۔ کیا یہ ملک ایک جنگل ہے جہاں کالی بھیڑوں کا راج ہے؟

صلاح الدین جو کہ اس کے والد کے مطابق ایک ذہنی معزور تھا ادھر ادھر گھومتا رہتا تھا اور اس کے بازو پر اس کے گھر والوں نے نام اور پتا بھی لکھوا دیا تھا۔ صلاح الدین کو جیل میں بھیانک تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بھائی کی جانب سے لگائی گئی تصاویر سے یہ بات واضع ہوتی ہے کہ اس کو پولیس نے اپنی حیوانیت کا نشانہ بنایا ہے۔

صلاح الدین کی ٹانگوں کے بیچ جسم کے نازک حصوں پر مارا گیا، صلاح الدین کے الٹے ہاتھ پر کسی چاقو کے گہرے زخم کا نشان ہے، ہاتھ کی پشت پھٹی ہوئی ہے. سیدھا ہاتھ جلا ہوا ہے کھال ادھڑ چکی ہے جیسے کسی استری سے جلایا گیا ہو. اس کی پسلیوں پر بھی مار کے نشان ہیں. جسم کا شاید ہی کوئی حصہ ہو جہاں مار کے نشان نہ ہوں. اس لیے صلاح الدین پولیس والوں سے پوچھ رہا تھا کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا ہے۔

اس ملک میں مودی سرکار کی مقبوضہ کشمیر میں سفاکیت کے خلاف احتجاج کیا جا رہا ہے پر اس ملک میں جو ہزاروں مودی موجود ہیں ان کو کون روکے گا اور کون پکڑے گا؟ اس ملک میں ظلم بڑھتا جا رہا ہے۔ چند دن پہلے ایک سولہ سالہ بچے کو تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ان کو باندھ کر اس کے کپڑے اتار کر مارا گیا۔ پاکستان میں اس قسم کے اب تک کافی واقعات ہو چکے ہیں مگر اس کو روکنے والا کوئی نہیں بلکہ جو روکنے والے ہیں وہ خود درندے بن جاتے ہیں۔ ایسے ہی درندوں کا شکار صلاح الدین بن گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us