امریکی صحافی نے بھارت کے پول کھول دیے

امریکی جریدے نیویارک کی رپوٹ میں بھارتی بربریت کا پردہ فاش کردیا گیا۔ بھارتی فوجیوں کا رات کو لوگوں کے گھروں میں گھس کر مار پیٹ کرنا، کشمیری نوجوانوں کو مسجد پر سنگ باری کرنے پر مجبور کرنا، سرعام خواتین کی عصمت دری کرنااور نوجوانوں پر اسٹریٹ فائرنگ کشمیر میں تعینات بھارتی فوج کا روز کا معمول ہے۔

بھیس بدل کر کشمیر میں داخل ہونے والے امریکی صحافی  نے بتایا کہ صرف سرینگر کے ایک ہسپتال میں گولیاں لگنے سے زخمی ہونے والے 30 افراد زیر علاج تھے۔ ہسپتال کے اندر اور باہر بھارتی خفیہ ایجنسی کے اہلکار ہر کسی پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ مقبوضہ وادی سے متعلق بھارتی میڈیا جھوٹ پھیلاتا رہا ہے۔  بھارتی میڈیا وہی بولتا ہے جو مودی سرکار بولنے کو کہتی ہے۔  اکثر نوجوانوں کے جسم پر بہیمانہ تشدد کے نشانات بھی دیکھے۔

 

امریکی صحافی نے اپنی رپوٹ میں مزید کہا کہ جس دن پابندیاں اٹھائی جائیں گی کشمیری مودی کے خلاف پھٹ پڑیں گے۔ بھارت میں مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز کی بھاری تعداد میں موجودگی کے ساتھ ساتھ دفعہ 144کے تحت پابندیاں نافذ ہیں جبکہ انٹرنیٹ، پری پیڈ موبائل اور ایس ایم ایس سروسز بدستور معطل ہیں۔

مقبوضہ وادی میں قابض بھارت کے گزشتہ 4 ماہ کے محاصرے میں 2 خواتین اور 3 لڑکیوں سمیت 38 کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔ بھارتی فوجیوں نے فائرنگ کرکے 4 ماہ کے دوران 853 کشمیریوں کو زخمی کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us