‘سابق فاٹا’ پر سرکار کا "قانونی قبضہ” : کیا یہی تھا انضمام کا مقصد؟ افراسیاب خٹک انٹرویو

پاکستان کا پشتون اکثریت علاقہ، فاٹا کے درینہ مسائل ، خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے کے بعد اب مزید بڑھتے اور بگڑتے نظر آہ رہے ہیں۔

خیبر پختونخواہ، جس کی صوبائی اسمبلی کا حصہ بننے کے لیے فاٹا کو صوبے میں ضم کیا گیا تھا، وہیں آج ایسی قانون سازی کی جارہی ہے جو ان کو بنیادی حقوق سے محروم کر رہے ہیں۔ بات چاہے سرکار کی ان کی زمینوں پر قبضے کی ہو یا پھر انٹرنمنٹ کیمپ کی اجازت دینے کی۔ عوام کو نہ پہلے سکون اور بنیادی حقوق میسر تھے اور نہ اب ہیں۔

سابق فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں انٹرنمنٹ کیمپ کو قانونی حیثیت دینے اور فاٹا کے قدرتی وسائل پر سرکار کے قبضے کے بارے میں جاننے کے لیے LRNews نے کیا، ممبر عوامی نیشنل پارٹی اور سابق سینٹر افراسیاب خٹک سے خصوصی گفتگو۔۔۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us