پاکستان کی سیاست، کنجری، دلی، رنڈی کا کردار!

پاکستانیوں کی ہمدردی۔۔۔ دیکھنے کی اور دکھانے کی اور!

کشمیر کے لیے کھڑے ہونے کو تیار، لیکن جو نہ کھڑا ہو اُس کو بیچ چوراہے ذلیل کردو!

کشمیر سے اظہار یکجہتی کے لیے جو کھڑا ہوا، جس نے نعرے لگائے، اُس کو سلام۔۔۔ جس نے اس کی دلیل مانگی، اُس کو دلا، کنجری، سلیکٹڈ اور دیگر گالیوں سے نوازا گیا!

کیا یہی ہے وہ ریاست مدینہ جس کا عمران خان درس دیتے رہے تھے؟ کیا یہی ہیں وہ شاہین جن کا اقبال نے خواب دیکھا تھا؟ اگر یقین نہ آئے تو دوبارہ دیکھیئے!

دوبارہ دیکھیئے اور ذرا غور سے پڑھیے۔ یہ اُن لوگوں کے لیے وہ مخصوص القابات ہیں جو کوئی شریف یا عام شخص اپنے گھر میں، اپنے حلقہ احباب میں یہاں تک کے بے تکلف دوستوں میں بھی اسعتمال کرنے سے پہلے سو بار سوچے!

یہ نہ تو وہ زبان ہے جس کی نہ ہمارا مذہب اجازت دیتا ہے اور نہ ہی وہ جو ہمارے معاشرے میں اچھی سمجھی جاتی ہے۔ کسی سے سو اختلافات ہوں یا پھر لاکھ، لیکن ایسی زبان استعمال کرنا اور اس طرح سے کھلے عام وہ بھی فخر کے ساتھ؟ بے شک اگر اس ملک پہ کوئی عذاب آئے تو وہ درست ہی آئے گا! کیوں کہ شاید ہم ہیں ہی اسی لائق۔

ایک بہت مشہور اور پرانی کہاوت ہے کہ جیسی عوام ویسے حکمران۔ لیکن پاکستان کے معاملے میں ہم اس پہلی میں الجھے ہیں کہ ہم ہمارے حکمرانوں کی وجہ سے ایسے ہیں یا پھر ہماری وجہ سے ہمیں ایسے حکمران ملے ہیں!

پاکستان کی سیاست میں گالم گلوچ، بدتمیزی، سیاسی مخالفین کے خلاف پروپگنڈا کرنا، خواتین کی بے حرمتی وغیرہ یہ تمام عمل نئے نہیں ہیں۔ خواہ وہ بے نظیر بھٹو کی نقلی برہنہ تصاویر ہیلی کاپٹر سے پھینکنا ہوں یا پھر مریم نواز کے جلسے سے پہلے رنڈی ان منڈی کا ٹرینڈ ہو۔۔۔ پاکستانی سیاست دان اور ہماری ٹوئٹر کی عوام کبھی مایوس کرنے میں پیچھے نہیں ہٹی۔

آکر ہٹ بھی کیسے سکتی ہے؟ آخر یہ روایت بھی تو ہمیں ہمارے سیاستدانوں سے ہی ملتی ہے۔ کیا نواز شریف نے ایسا اپنے سیاسی حریفوں کے ساتھ نہیں کیا؟ کیا عمران خان نے کنٹینر پر کھڑے ہوکر گالیاں نہیں بکیں؟ کیا خواتین کی حرمتیں پامال نہیں کیں؟

یہی سب کچھ تو ایوب خان نے فاطمہ جناح کے ساتھ بھی کیا تھا اور تاریخ تو بھری پڑی ہے ایسی حرکتوں سے!

یہ قوم کب سدھرے گی؟ معلوم نہیں۔ لیکن کیا یے ٹھیک ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں یہ ایک بڑا سوال ہے۔ جس کا جواب ہمیں کسی اور سے نہیں بلکہ خود سے پوچھنا ہوگا!

واضح رہے، کہ یہ تمام ٹرینڈز کل جمعہ کے روز کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آدھا گھنٹہ باہر احتجاج کرنے کے عمران خان کے حکم پر سوال اُٹھانے والوں کے خلاف جاری کیے گئے ہیں۔ 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

WhatsApp WhatsApp us